تفتان بارڈر پر قرنطینہ میں موجود زائرین کی تعداد 4 ہزار تک پہنچ گئی

تفتان بارڈر پر قرنطینہ میں موجود زائرین کی تعداد 4 ہزار تک پہنچ گئی
وائرس کے شبہ میں ٹیسٹ کے لئے موبائل لیب بھی تفتان پہنچ گئی، محکمہ صحت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

چمن: ایران سے زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جس کے بعد تفتان بارڈر پر قرنطینہ میں رکھے گئے زائرین کی تعداد 4 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ تفتان انتظامیہ کے مطابق ایران سے مزید 184 پاکستانی تفتان پہنچ گئے ہیں جس کے بعد تفتان بارڈر پر قرنطینہ میں رکھے گئے زائرین کی تعداد 4 ہزار تک پہنچ گئی ہے جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں۔


تفتان بارڈر پر زائرین کو 4 قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق وائرس کے شبہ میں ٹیسٹ کے لئے موبائل لیب بھی تفتان پہنچ گئی جس کو ایک مخصوص جگہ پر منتقل کیا گیا ہے۔

دوسری جانب پاک افغان بارڈر دسویں روز بھی بند ہے، سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ باب دوستی سے ہر قسم کی دو طرفہ آمدورفت معطل ہے اور سرحد کے دونوں جانب سیکورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پاک افغان دوطرفہ تجارت، نیٹو سپلائی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور سینٹرل ایشیا کے ساتھ بھی تجارت معطل ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پاکستان میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے کیسز دگنے ہوچکے ہیں تمام 19 کیسز بیرون ملک سے آئے ہیں۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ یہ حیرت کی بات نہیں 106 ممالک میں یہ بیماری پھیل چکی ہے تاہم ابھی تک مقامی سطح پر اس کے پھیلنے کے کوئی ثبوت نہیں ہیں، اگر ہم ذمہ داری سے کام کریں تو ہم پھیلاؤ سے بچ سکتے ہیں۔

معاون خصوصی برائے صحت کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ملکر عوام کو کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہیں، رپورٹ ہونے والے نئے کیسز کی بہترین طبی نگہداشت کی جارہی ہے لہذا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔