فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سامراجی دباؤ کے زیرِ اثر

 فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سامراجی دباؤ کے زیرِ اثر

 بین الاقوامی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے نگران ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو 27 میں سے 26 شرائط پوری کرنے کے باوجود آئندہ تین ماہ کے لئے گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یکم مارچ سے 4 مارچ تک جاری رہنے والی اجلاس میں پاکستان کے بارے میں ایشا پیسیفک گروپ کی رپورٹ پر غور کے بعد جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے 2018ء کے ایکشن پلان کے 27 میں 26 جب کہ دوسرے ایکشن پلان کے 6 میں سے 5 نکات پر عملدرآمد کر لیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے اس کو سراہا بھی گیا ہے لیکن ساتھ ساتھ وارننگ بھی دی ہے کہ پاکستان ابھی سارے خطرات سے نکلا نہیں ہے ایف اے ٹی ایف انتظامیہ کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف قانون سازی کر لی ہے لیکن پولیس کی تفتیش میں سقم ہونے کے باعث مجرموں کو عدالتوں سے سزائیں نہیں ہو پا رہی ہیں۔ ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر ایکشن پلان کے 26 نکات پر عملدرآمد کے بعد گرے لسٹ میں رکھا جانا سیاسی وجوہات کی بنا پر ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے امریکہ کے تعلقات کشیدہ ہیں اور ایف اے ٹی ایف امریکہ کے زیرِ اثر ہے۔ اس ادارے میں بھارتی اثر رسوخ بھی ہے۔ امریکہ اور بھارت دونوں ممالک پاکستان کے خلاف مخاصمانہ رویہ ا پنائے ہوئے ہیں۔ وہ ہر میدان میں پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ہیڈ کوارٹر پیرس میں جاری رہنے والے اجلاس میں پاکستان کو توقع تھی وہ اس دفعہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل جائے گا کیونکہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کو مطمئن کرنے کے لئے قابلِ قدر اقدامات کئے تھے اور 27 میں سے 26 نکات پر پیش رفت کر چکا تھا۔ ایف اے ٹی ایف کی ہدایت کے تحت پاکستان نے 2020ء کے دوران دہشت گردی کی مالی معاونت کے ہائی پروفائل کیسز میں ملوث گرفتار افراد کو سزائیں 

بھی دلوائیں۔ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی طرف سے شورٹی بانڈز کی خلاف ورزی پر پکڑ کی گئی۔ اب گزشتہ برسوں کی نسبت سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث ملزمان کے بری ہونے کی شرح بہت کم ہے۔ صرف پنجاب میں 2020ء کے دوران صوبے بھر میں 16 کیسوں میں 23 افراد کو سزائے موت سنائی گئی اور 22 کیسوں میں 58 افراد کو عمر قید کی سزائیں ہوئیں۔ نفرت انگیز مواد شائع کرنے والوں، اغوا برائے تاوان، دھماکہ خیز مواد برآمد ہونے والوں کو بھی سزاؤں کا تناسب پہلے سے بہت بڑھا ہے۔ اس کے علاوہ کالعدم تنظیموں کے اثاثے منجمد کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے وابستہ افراد کی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے بھی نمایاں اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کئے جانے کو چار سال کا عرصہ ہو گیا ہے اس دوران اس کے 12 اجلاس ہوئے ہیں۔ ہر مرتبہ پاکستان نے اسے مطمئن کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن اسے گرے لسٹ سے نکالا نہیں گیا۔

پاکستان نے قانون سازی سے متعلق ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے  دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے خلاف نہ صرف قوانین بنائے بلکہ ان پر عملدرآمد بھی کرایا۔ انہی وجوہات کی بنا پر پاکستان کو امید تھی کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل جائے گا لیکن پاکستان کی تمام کوششوں کو نظر انداز کر کے گرے لسٹ میں برقرار رکھے جانے کے اس فیصلے سے بہت مایوسی ہوئی ہے۔ بھارت نے اس سے قبل 2018ء میں لابنگ کر کے یورپین ممالک کو قائل کیا کہ مکمل عملدرآمد تک اسے گرے لسٹ سے نکالا نہ جائے۔  فرانس چونکہ ایف اے ٹی ایف کا مٔوثر رکن ہے اور حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی کے حوالے سے پاکستان نے فرانس کے خلاف بہت سخت رویہ اختیار کیا تھا اورپاکستان میں فرانس کے سفیر کو ملک بدر کئے جانے کے بعد سے اس نے بھارت جیسے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر پاکستان کی گرے لسٹ سے نکالے جانے کی مخالفت کی۔ بھارت اپنے خبثِ باطن کی بنا پر پاکستان کو ہدف بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا رہتا ہے۔ بھارت میں دہشت گردی حکومتی سر پرستی میں ہو رہی ہے۔ غیر قانونی مقبوضہ علاقے کشمیر میں ہی نہیں بھارت کے اندر بھی انتہا پسند ہندو تنظیموں نے اقلیتوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ دہشت گردی کے واقعات عروج پر ہونے کے باوجود اس کے خلاف ایف اے ٹی ایف کوئی کارروائی کرنے کو تیار نہیں جب کہ اس کے مقابلے میں پاکستان جو خود دہشت گردی کا شکار ہے اور دہشت گردوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں جانوں کے زیاں اور کھربوں روپے کے نقصان کے باوجود اس نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر کے ان کی کمر توڑ دی ہے اور آج دہشت گرد پاکستان میں اپنے جان بچاتے پھر رہے ہیں۔

فرانس اور بھارت کے قریبی تعلقات ہیں، فرانس ہر فورم پر بھارت کی حمایت کرتا رہتا ہے۔بھارت کو جہاں کوئی موقع میسر آتا ہے وہ نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ وہ انتہائی پستی کا شکار ہو کر پاکستان کے عوام کی معاشی ترقی کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش بھی کرتا ہے جو کہ انتہا درجے کی کم ظرفی میں آتا ہے۔ ایک طرف بھارت پاکستان میں دہشت گردی کو جواز بنا کر کے گرے لسٹ سے نکلنے کے خلاف لابنگ کر رہا ہے تو دوسری جانب بھارت پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کو ہوا دینے کے لئے پوری طرح سرگرم ہے اور تخریب کاروں کو سہولت کاری فراہم کر رہا ہے۔ اس طرح کا دوغلا پن دنیا سے دہشت گردی کو ختم کرنے میں کسی طور معاون ثابت نہیں ہو سکتا۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جس میں مختلف ممالک کی نمائندہ تنظیمیں شامل ہیں۔ ادارے کا بنیادی مقصد بین الاقوامی مالیاتی نظام کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے لئے استعمال سے روکنا ہے۔کسی بھی ملک کو زیرِ نگرانی یعنی گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ ایف اے ٹی ایف کا ذیلی ادارہ انٹرنیشنل کو آپریشن ریویو گروپ کرتا ہے، لگتا ہے ایف اے ٹی ایف امریکہ، یورپ، بھارت اور فرانس جیسے ممالک کا آلۂ کار بن کر اپنے مقاصد سے ہٹ گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس پولٹیسائز ہو گیا ہے۔

مصنف کے بارے میں