پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف ریفرنس لانے کا اعلان

پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف ریفرنس لانے کا اعلان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور ممبر سندھ نثار درانی کے خلاف ریفرنس لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ یہ الیکشن کمیشن پاکستان کی 17 فیصد آبادی کا نمائندہ نہیں ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماءاور سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ یہ اداروں کا کام ہے کہ ملکی نظام کو متوازن کریں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں سیاسی بحران چل رہا ہے جس کی وجہ الیکشن کمیشن ہے، عمران خان اور پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن پر اعتماد نہیں ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اگر مناسب سمجھیں تو (ن) لیگ میں عہدہ لے لیں، یہ الیکشن کمیشن پاکستان کی 17 فیصد آبادی کا نمائندہ نہیں ہے اور پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان اس بارے میں کئی مرتبہ بات کر چکے ہیں۔ 

فواد چوہدری نے کہا کہ اوور سیز پاکستانیوں سے ووٹ چھینے کی کوشش کی جارہی ہے اور ہم الیکشن کمیشن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے، چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس لانے کا فیصلہ کیا ہے اور فیصل واؤڈا یہ ریفرنس دائر کریں گے۔ 

انہوں نے ملکی معیشت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ڈالر 190 روپے پر چلا گیا ہے، پاکستان کی معیشت تباہ ہو چکی ہے، پاکستان کی معیشت کا حال بھی وہی ہو گا جو سری لنکا کا ہوا ہے۔

دوسری جانب، پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے ممبر سندھ نثار درانی کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا ہے جس کے متن میں کہا گیا ہے کہ نثار درانی آرٹیکل 215-16 کے تحت مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں، آرٹیکل 216 کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کسی اور ادارے کا عہدہ نہیں سنبھال سکتے۔

ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ نثار درانی سندھ حکومت کے لاءکالج حیدرآباد کے پرنسپل ہیں، نثار درانی کو 31 دسمبر 2021 کو لاءکالج کے پرنسپل کے عہدے میں تین سال توسیع کی گئی جبکہ ریفرنس کے ساتھ پرنسپل کے عہدے پر تین سالہ توسیع کا نوٹیفکیشن بھی لف کیا گیا۔

نثار درانی نے لاءکالج حیدرآباد کے پرنسپل کے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیا اور آئین کے مطابق سرکاری عہدے پر فائز شخص کوئی دوسرا عہدہ نہیں رکھ سکتا۔ ریفرنس کے مطابق نثار درانی نے جان بوجھ کر آرٹیکل 214-15 کی خلاف ورزی کی ہے اور ممبر سندھ جوڈیشل کوڈ آف کنڈکٹ کے بھی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں لہٰذا استدعا ہے کہ نثار درانی کو عہدے سے ہٹایا جائے۔ 

مصنف کے بارے میں