اسلام آباد: سردی کے آغاز سے ہی جلد اپنی قدرتی نمی کھونے لگتی ہے اوراس میں کھچاو¿، ڈھیلی پڑنااور جھریوں کے علاوہ سخت کھردری ، پھٹی ایڑیوں کے مسائل بھی سامنے آتے ہیں ۔دراصل ہمارے جسم کی سب سے سخت جلد ایڑیوں کی ہوتی ہے اور جسم کے اس حصے میں نمی کی مقدار کم ہوتی ہے۔ اس وقت اگر لاپرواہی برتی جائے تو دن بدن جلد کھنچنے لگتی ہے جس سے کریکس یعنی دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔اس کے علاوہ کارپٹ پر ننگے پاو¿ں چلنے سے بھی پاو¿ں کی نچلی جلد روکھی اور خشک ہو جاتی ہے۔
اکثر اوقات خواتین موسمِ گرما میں بھی پھٹی ایڑیوں کی شکایت کرتی ہیںکیونکہ ان کے ہاتھ اور پاو¿ں زیادہ دیر تک پانی میں رہتے ہیں جس سے جلد خشک ہو جاتی ہے۔ ایڑیوں کا پھٹنا وراثتی بھی ہو سکتا ہے، اس کے علاوہ کیراٹوڈرما بھی ایسی بیماری ہے جس سے ہاتھوں اور پاو¿ں کی نچلی جلد کے ساتھ ساتھ ایڑیاں بھی بری طرح سے متاثر ہوتی ہیں۔
پھٹی ایڑیوں سے نجات پانے کے لیے بالائی بہترین “موئسچرائزر” ہے جسے پھٹے ہونٹوں ، ایڑیوں ،ہاتھوںاور چہرے پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔اگر ایڑیاں کافی حد تک پھٹی ہیں تو ہفتے میں دو مرتبہ نیم گرم پانی میں دو چمچے سرکہ اور سکمڈ ملک ملائیں اور اس پانی میں 15 منٹ کے لئے پاو¿ں ڈبو کر رکھیں۔پھر کسی پتھر یا فٹ فائلر سے ایڑیوں کو آہستہ آہستہ رگڑنے کے بعد تولیے سے خشک کر لیں۔اب ایڑیوں پر پٹرولیم جیلی کا اچھے طریقے سے لیپ کریں۔ حتیٰ کہ جیلی دراڑوں کے اندر چلی جائے اور اس کے بعد جرابیں پہن لیں ۔کوشش کریں کہ یہ عمل روزانہ رات کو سونے سے پہلے دہرائیں۔
اسکے علاوہ نیم گرم پانی میں نمک اور بالائی ملا کر آدھا گھنٹہ تک پاو¿ں اس میں ڈبو کر رکھنے سے ایڑیاں نرم اور صاف ہو جاتی ہیں۔
پیرافن پیڈی کیور بھی ایڑیوں کر نرم اور صاف کرنے کے لیے بہترین ہے ۔
اگر آپ کی ایڑیاں زیادہ خراب نہیں تو موم بتی پگھلا کر موم کے قطرے ایڑھیوں پر اس طرح گرائیں کہ دراڑیں بھر جائیں اس کے بعد جرابیں پہن کر 20 منٹ کے بعد موم کے قطرے چھیل کر اتار لیں ،یہ عمل ہفتے میں دو سے 3مرتبہ دہرائیں۔
کچھ لوگ گھر میں ہاتھ دھونے کے لئے ریڈ سوپ استعمال کرتے ہیں۔آپ ریڈ سوپ کی آدھی ٹکیا کرش کریں پھر اس میں 25 ملی لیٹر گلیسرین ملا کر ہاتھوں سے گوندھ کر پیسٹ بنا لیںاور روزانہ رات کو سونے سے پہلے یہ پیسٹ پھٹی ہوئی ایڑیوں پر لگائیں۔اس پیسٹ کے روزانہ استعمال سے ایڑیاں نہ صرف نرم ہونگی بلکہ ان کی رنگت بھی گلابی ہو جائے گی۔