کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ قافلے کی صورت میں یادگار شہداء جائے گی لیکن اگر کارکنان اور شہداء کے لواحقین وہاں آئے تو وہ ان کی عقیدت ہوگی۔ بہادر آباد میں ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی دفتر کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ حکومت رابطہ کمیٹی کی حفاظت کو یقینی بنائے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے دو روز قبل اعلان کیا تھا کہ وہ پارٹی کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے یاد گارِ شہداء جائیں گے چاہے انہیں اس کی اجازت ملے یا نہ ملے۔ انہوں نے سوال کیا کہ پاک سرزمین پارٹی کے صدر مصطفیٰ کمال ایک دن کراچی کے اس علاقے میں پمفلیٹ بانٹنیں جائیں گے تب ان کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا؟۔

سربراہ ایم کیو ایم نے کہا کہ ان کی جماعت کے 5 نومبر کے جلسے کی کامیابی نے بتادیا کہ کارکنان کی استقامت کی وجہ سے اور رابطہ کمیٹی کی ٹیم ورک کی وجہ سے عوام کو نیا حوصلہ ملا۔

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ان کے کارکنان کو ان کی جمہوری آزادی کے تحت یاد گارِ شہداء آنے کی اجازت دی جائے اور منع کرنے کے باوجود وہاں آنے والے کارکنان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔

ادھر پولیس نے یادگار شہدا کی طرف جانے والے راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ لیاقت علی خان چوک، مدنی مسجد اور اللہ والی چورنگی سے یادگار شہدا جانے والے راستوں کو بند کیا گیا ہے۔

پولیس نے ڈبل ٹریک پر ایک ٹریک کو بند کر دیا ہے۔ عزیز آباد کی طرف آنے والے راستوں پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات ہے جب کہ رینجرز نے علاقے میں گشت بھی بڑھا دیا ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں