فاروق ستار کی خواہش پر اسٹیبلشمنٹ نے ملاقات کروائی، مصطفیٰ کمال

کراچی: پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہر گھنٹے بعد قلابازیاں اور کامیڈی شو ہو رہا تھا اور چند حقائق عوام کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جبکہ باقی آف دی ریکارڈ سب کو سب پتا ہے۔

انہوں نے کہا ہم لوگ چیزوں کو لیک کرنے والے نہیں جبکہ ہم نے فاروق ستارکے ساتھ پریس کانفرنس کی اس کا سب کو پتا ہے لیکن کہا جا رہا ہے فاروق ستار کیساتھ جو پریس کانفرنس کی وہ اسٹیبلشمنٹ نے کروائی ہے۔ پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ نے مزید کہا گورنر سندھ کا کہنا ہے فاروق ستار نے بتایا ان سے مجبوراً یہ کام کروایا جا رہا ہے اور دوسرا یہ تاثر دیا جا رہا ہے فاروق ستار کو اغوا کر کے پریس کانفرنس کروائی گئی۔

ان کا کہنا پاکستان واپس آنے کے بعد ہمیں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن فاروق ستار نے پورے پاکستان کو یہ بات باور کروا دی کہ پچھلے 50 گھنٹوں میں جو کچھ ہوا وہ اسٹیبلشمنٹ ہمارے لیے کر رہی ہے.ان کا کہنا تھا ہاں ہمیں اسٹیبلشمنٹ نے بلوا کر فاروق ستار سے ملوایا اور جب ہم وہاں پہنچے تو وہاں فاروق ستار پہلے سے موجود تھے جن کی فرمائش پر ہمیں وہاں بلوایا گیا تھا۔

مزید تفصیل پڑھیںہر صورت یادگار شہدا جاؤں گا، فاروق ستار کا اعلان

 

پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ فاروق ستار  8 ماہ سے اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے ہم سے ملاقاتیں کر رہے تھے تاہم فاروق ستار کو بتا دیا کہ پارٹی ختم کرسکتا ہوں متحدہ میں شامل نہیں ہو سکتا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا فاروق ستار نے آدھا جھوٹ بولا لیکن میں آج پورا سچ بولتا ہوں اگر ہم نے بلوایا ہوتا تو ہم پہلے سے موجود ہوتے لیکن وہاں فاروق ستار پہلے سے موجود تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ فاروق ستار چاہتے تھے کہ پی ایس پی، ایم کیو ایم میں ضم ہو لیکن میں نے ان کو بتایا کہ میں ایم کیو ایم میں شامل نہیں ہو سکتا لہذا ہم ایک کامن پلیٹ فارم پر جا کر کام کر لیتے ہیں۔

 

سربراہ پی ایس پی نے کہا کہ ان لوگوں سے پارٹی نہیں چل رہی تھی انہوں نے ہمیں اسٹیبلشمنٹ کے پاس بلوایا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کیوں یہ کام کر رہی ہے اور ہم نے وہاں کیوں جانا پسند کیا؟۔ صرف اس لیے کیوںکہ بانی ایم کیو ایم 'را' کا ایجنٹ اور ملک کا غدار ہے تاہم اس کے لیے ہمیں جو کرنا پڑے گا ہم کریں گے۔

ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار جانتے ہیں کہ عمران فاروق کا قتل الطاف حسین نے کروایا جس میں بھارتی ایجنسیاں بھی ملوث ہیں اب نہیں چاہیے کہ ان کی قبر پر جا کر الطاف حسین کے خلاف بد دعائیں کریں۔

 

مصطفیٰ کمال نے کہا ہمیں لانڈری، لانڈری، اسٹیبلشمنٹ کے لوگ کہتے ہیں لیکن ایم کیو ایم کے کارکن اور ستر ماؤں کے بچے پی ایس پی نے لٹائے جبکہ اسٹیبلشمنٹ غلط کام نہیں کر رہی بلکہ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ کراچی بحال ہو۔ انہوں نے فاروق ستار کو  مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ کیسے بنے، ایم کیو ایم پاکستان کیسے بنی؟۔ 22  اگست 2016 کو آپ جی بھائی جی بھائی کر رہے تھے اور حملہ کیا ٹی وی چینل پر پھر مردہ باد کا نعرہ لگ گیا۔ پانچ گھنٹے بعد دباؤ بڑھا اور اسی اثنا میں  پانچ ایف آئی آر کٹ گئیں لیکن فاروق ستار نے الطاف حسین کے خلاف بات نہیں کی تھی۔

مصطفیٰ کمال نے کہا  پولیس, رینجرز تیار تھے سب انہیں ڈھونڈ رہے تھے اور یہ گھروں میں نہیں تھے  تاہم ایم کیو ایم کے متعدد رکن قومی اسمبلی اور رکن سندھ اسمبلی نے انیس قائم خانی کو فون کر کے پی ایس پی میں شامل ہونے کا کہا۔

 

سربراہ پاک سر زمین پارٹی نے بتایا  فاروق ستار نے جب دیکھا کہ بچنے کے چانسز نہیں تو کہا کہ پریس کلب جا رہا ہوں علیحدگی کا بیان دینے جا رہا ہوں جس کے لئے شاہ زیب خانزادہ اور پرویز رشید کو گوا ہ بنایا۔اس پریس کانفرنس میں بانی ایم کیو ایم سے علیحدگی کا اعلان کیا جائے گا لیکن پریس کلب پر انہیں رینجرز نے حراست میں لے لیا تھا۔ 

 

 

پی ایس پی سربراہ نے الزام لگایا کہ ایم کیو ایم پاکستان والے ہم پر الزام لگا رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے آدمی ہیں لیکن ایم کیو ایم پاکستان تو پیدا ہی ڈی جی رینجرز سندھ کے دفتر میں ہوئی ہے۔

انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے اسٹیبلشمنٹ کو اپنے رکن قومی اور سندھ اسمبلی کی فہرست فراہم کی تھی اور کہا تھا کہ یہ لوگ پی ایس پی میں شامل ہونے والے ہیں انہیں روکا جائے کیونکہ وہ پی ایس میں شامل ہو کر اسٹیبلشمنٹ کے کام کے نہیں رہیں گے اسی وجہ سے میں نے اپنی پارٹی میں شامل ہونے والوں کو استعفے دینے سے روک دیا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی، حیدر آباد، سکھر اور میر پور خاص کے ارکانِ اسمبلی ایم کیو ایم پاکستان کے پاس ہیں لیکن پھر بھی ان شہروں میں مہاجر قوم کے مسائل ختم نہیں ہو رہے۔

انہوں نے مہاجر قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ مہاجر کا نام لے کر سیاست کر رہے ہیں وہ اس قوم کا بھلا نہیں کر رہے۔ اس شہر میں لاکھوں کی تعداد میں پختون، بلوچ، پنجابی، سندھی اور سرائیکی رہتے ہیں اگر میں بھی مہاجر کا نام لے کر سیاست کروں گا تو یہ سب ہم سے دور ہوں گے اور ہمارے خلاف نفرت لے کر جائیں گے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال آبدیدہ ہو گئے اور کہا کہ جب ہم پاکستان آئے تھے تب یہ سب آپریشن کہاں ہو رہا تھا؟ تو کیا آپ لوگ ہمیں بتائیں گے ہم مہاجروں کے کتنے خیر خواہ ہیں۔

انہوں نے کہا جو لوگ آج مہاجر، مہاجر کر رہے ہیں ان سے بڑا مہاجروں کا دشمن اور کوئی نہیں ہے۔ میں نے بہت خلوص سے فاروق ستار کو کہا تھا کہ ہم نے 35 سال تک مہاجر کارڈ پر سیاست کی، مہاجروں نے ہمیں ووٹ دیئے، ہمیں 25 ہزار مہاجروں کی لاشیں ملیں لیکن مہاجروں کو کیا ملا؟۔

مصطفیٰ کمال نے فاروق ستار کے بیان کا حوالہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر میری والدہ زندہ ہوتیں تو میں کبھی انہیں سیاست میں ملوث نہیں کرتا۔ مصطفیٰ کمال نے کراچی کے میئر وسیم اختر پر رشوت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وسیم اختر 50 لوگوں کے سامنے 6 فیصد رشوت مانگتے ہیں۔

 

یاد رہے ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی میں تناؤ کی صورت اس وقت بنی جب رواں ہفتے 8 نومبر کو ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے پی ایس پی سربراہ مصطفیٰ کمال کے ساتھ ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس میں مل کر کام کرنے کا اعلان کیا تاہم اگلے ہی روز ایک دھواں دار پریس کانفرنس میں فاروق ستار نے سیاست سے علیحدگی کا اعلان کر دیا جو بعد ازاں انہوں نے کارکنوں کے اصرار اور والدہ کے حکم پر واپس لے لیا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں