لاہور:فروزن فوڈ کو فریش رکھنے اور ان کا ذائقہ قائم رکھنے کے لئے اس میں اسٹارچ شامل کیا جاتا ہے جو جسم میں ہائی گلوکوز لیول کا باعث بنتا ہے جو نہایت نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
فروزن فوڈز کا ستعمال روز بہ روز بڑھتا چلا جارہا ہے۔اگر چہ فروزن فوڈز کی بدولت کھانے پکانے اور اسے محفوظ بنانے کا عمل انتہائی آسان ہو گیا ہے تاہم ان کے مضر صحت اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔فروزن فوڈ کو فریش رکھنے اور ان کا ذائقہ قائم رکھنے کے لئے اس میں اسٹارچ شامل کیا جاتا ہے جو جسم میں ہائی گلوکوز لیول کا باعث بنتا ہے۔یہ انسانی صحت خصوصاً ذیابیطس کے مریضوں کے لئے بے حد نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

فروزن فوڈز میں موجود ٹرانس فیٹس امراض قلب کا سبب بن سکتاہے جبکہ ان میں پائی جانے والی نمک کی اضافی مقدار ہائی بلڈ پریشر کے خطرات کو بڑھا دیتی ہے۔فروزن فوڈز کولمبے عرصے تک خراب ہونے سے بچانے کے لئے اس میں مختلف قسم کے کیمیکلز اور سوڈیم کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ انسانی صحت کے لئے انتہائی مضرہیں۔

اسی طرح فروزن فوڈز میں شامل کیلوریز کی اضافی مقدار انسان کو موٹاپے کی طرف دھکیلتی ہے۔ لہذا فروزن فوڈز کی جگہ فریش پھل اور سبزیوں کا استعما ل صحت کے اعتبار سے زیادہ مفید ہے۔
غرض یہ کہ اشتہاروں میں دکھائے جانے والے فریب اور ڈبوں کی چمک دمک کا شکار مت بنئے۔ کھانے پینے کی چیزوں کو تازہ خریدیں اور گھر ہی میں تیا رکریںکیونکہ وقت کی یہ تھوڑی سی بچت آپ کو مہنگی بھی پڑ سکتی ہے۔