وزیراعظم پاکستان عمران خان کو امن کا نوبل انعام دینے کے لیے تحریک کا آغاز کر دیا گیا

 وزیراعظم پاکستان عمران خان کو امن کا نوبل انعام دینے کے لیے تحریک کا آغاز کر دیا گیا

لاہور :  کرتارپور راہداری کا افتتاح کرنے کے بعد وزیراعظم پاکستان عمران خان کو امن کا نوبل انعام دینے کے لیے تحریک کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس تحریک کا آغاز سکھوں کی نمائندہ تنظیم سکھ فار جسٹس اور دیگر تنظیموں نے کیا۔اس حوالے سے ڈاکٹر امرجیت سنگھ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی عروج پر ہے لیکن وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کھول کر ثابت کر دیا کہ وہ واقعی امن نوبل انعام کے حقدار ہیں۔


اس ضمن میں سکھ تنظیمیں آئندہ چند دنوں میں دستخطی مہم کا آغاز کرنے والی ہیں جس میں نوبل کمیٹی سے مطالبہ کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ایک طرف جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف پاکستان نے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کرتارپور راہداری کھول کر دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے جبکہ بھارت کی انتہا پسند ہندو حکومت اس خطے کا امن برباد کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے 9 نومبر کو بھارت سمیت دنیا بھر کے سکھوں کو کرتاپور راہداری کھول کر انمول تحفہ پیش کیا۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم نے گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور کی نئے سرے سے تعمیر اور انڈین یاتریوں کے لیے تیار کی گئی راہدرای کا افتتاح کیا۔ وزیراعظم عمران خان سمیت کئی اہم شخصیات نے کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔

اس کے علاوہ سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ اور نوجوت سنگھ سدھو بھی تقریب میں موجود تھے۔ اس تقریب میں بالی وڈ فلمسٹار سنی دیول سمیت بڑی تعداد میں سکھ یاتری موجود تھے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ سب سے پہلے سکھ برادری کو 550 ویں سالگرہ کی مبارکباد دیتا ہوں، خوش آمدید کہتا ہوں، ایف ڈبلیوسب سے آگے تھی، جنہوں نے 10مہینے کے اندر سڑک، کمپلیکس اور پل بنایا ، ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے بھارتی ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ مودی سن لو! انصاف سے امن، ناانصافی سے انتشار پھیلتا ہے۔