اہم مہینہ

اہم مہینہ

کہا جا رہا ہے کہ عمران خان خود ساختہ سائفر کی طرح اب وزیر آباد میں اپنے اوپر ہونے والے حملے پر بھی اسی طرح سے کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ صورتحال اتنی تیزی سے تبدیل ہوئی کہ وقوعے کے فوری بعد اظہار مذمت کرتی سیاسی جماعتیں اب اتنی ہی شدت سے کہہ رہی ہیں کہ یہ ڈھونگ پی ٹی آئی نے خود رچایا تاکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ بڑھا کر اپنے مطالبات منوائے جاسکیں۔

اب کوئی کچھ بھی کہے یہ طے ہے اس واقعہ کے بعد قانونی طریق کار اور ضوابط کو نظر انداز کرنے سے ایک تماشا کھڑا کیا جاچکا ہے۔ عمران خان نے حملے میں زخمی ہونے کے فوری بعد مقامی سرکاری ہسپتال جاکر طبی معائنہ جو ایک لازمی قانونی تقاضا ہے، کرانے کے بجائے ڈیڑھ سو کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے کینسر کے علاج کے بنائے گئے اپنے زیرکنٹرول شوکت خانم ہسپتال میں لاہور آنا زیادہ مناسب خیال کیا۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ عمران خان جب تک باقاعدہ گھیرے میں نہ آجائیں وہ کسی بھی قانونی یا عدالتی معاملے کی پروا نہیں کرتے۔

بہر حال مخالفین کو اب یہ کہنے کا موقع مل رہا ہے کہ عمران خان کو گولی کا کوئی زخم نہیں آیا دوسرے یہ کہ وہ بعض خدشات کی بنا پر کسی صورت اپنا بلڈ ٹیسٹ نہیں کرانا چاہتے تھے۔عمران خان نے اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرتے ہوئے لاہور پہنچ کر شوکت خانم ہسپتال کو سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا۔”چار گولیاں“لگنے کے باوجود روایتی جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیرکسی ثبوت کے الزامات کی بوچھاڑ کرتے رہے۔ اس دوران شوکت خانم اور جناح ہسپتال سے عمران خان کے زخمیوں کے بارے میں متضاد رپورٹس سامنے آئیں۔

حملہ آور بظاہر ایک مذہبی جنونی نکلا اگرچہ اس نے جان لیوا وار کرتے ہوئے برسٹ مارا مگر خوش قسمتی سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ اسے موقع پر موجود لوگوں نے پکڑ لیا۔ اسی ہڑبونگ میں کنٹینر پر موجود عمران خان کے گارڈ نے بھی اناڑی پن کا مظاہرہ کیا اور اس کی فائرنگ سے اپنے بچوں کے ساتھ لانگ مارچ دیکھنے کے لیے آنے والا ایک معصوم شہری لقمہ اجل بن گیا۔

حملہ آور پنجاب پولیس کی حراست میں ہے جو پی ٹی آئی حکومت کے ماتحت ہے۔ اگرچہ اب بھی تحقیقات جاری ہیں لیکن اب تک سامنے آنے والی معلومات کے مطابق اس حملہ آور کا تعلق باقاعدہ کسی تنظیم کے ساتھ نہیں لیکن یہ اور بھی خطرناک بات ہے نجانے ایسی ذہنیت رکھنے والے کتنے اور آزاد گھوم رہے ہونگے۔بہتر ہوگا کہ عمران خان اور ان کے ساتھی آئندہ حساس مذہبی معاملات پر غیر محتاط گفتگو سے پرہیز کریں اور جو کچھ ہو چکا اسے مد نظر رکھتے ہوئے اپنی سکیورٹی کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کریں۔

وزیر آباد میں عمران خان پر حملے کے بعد ملک بھر میں انتہائی کمزور ردعمل نے پی ٹی آئی کی قیادت کی مایوسی میں شدید اضافہ کردیا۔ عمران خان اپنے ساتھیوں پر برستے رہے کہ بینظیر بھٹو کے سانحے کے بعد پیپلز پارٹی کے حامیوں نے کئی روز تک پورے ملک کا نظام درہم برہم کیے رکھا تھا اور تم کچھ بھی نہیں کرسکے۔کپتان کے اس شکوے میں

میں وزن ہے کیونکہ وزیر آباد واقعے کے اگلے روز کسی کو بھی حقائق اور عمران خان کی حالت کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھی اور اسے جان لینے کی سنجیدہ کوشش سمجھا جارہا تھا۔

اس کے باوجود ملک بھر میں کاروبار زندگی معمول کے مطابق جاری رہا۔ تمام مارکیٹیں، بازار کھلے رہے۔ ٹرانسپورٹ رواں دواں رہی۔ شہری اطمینان سے اپنے کام کاج اور مشاغل میں مصروف رہے۔ تفریحی مقامات پر بھی رش رہا۔ اس ماحول میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی بہت کم تعداد سڑکوں پر نکلی۔ دس، دس، بارہ بارہ کی ٹولیوں نے ٹائر جلا کر ٹریفک بلاک کی اس دوران پولیس خاموش تماشائی بن کر مظاہرین کو شہ دیتی رہی مگر یہ سلسلہ بھی زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکا۔

عوام کی طرف سے احتجاج میں دلچسپی نہ لینا یقیناً بڑا دھچکا تھا۔ شاید اسی لیے عمران خان نے خود یا کسی سیانے کے مشورے پر لانگ مارچ دوبارہ شروع کرنے اور پنجاب و کے پی کے میں اپنی حکومتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کے لیے راستے بلاک کرنے کی ہدایت کردی۔ عمران خان نے اپنے زخمی ہونے کا جواز پیش کرتے ہوئے فی الحال گھر میں بیٹھ احتجاج کی نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن لگتا ایسے ہے انہیں کسی جانب سے اشارے کا انتظار ہے یا پھر وہ چاہتے ہیں کہ لانگ مارچ میں ان کی شمولیت سے قبل راولپنڈی، اسلام آباد میں لاکھوں مشتعل لوگ امڈآئیں اور حکومت اور ملکی نظام کو تہس نہس کردیں۔

رواں سال 9 اپریل کو اپنی حکومت جانے کے بعد وہ یہی مشن لے کر مسلسل کوششیں کررہے ہیں مگر امید بر نہیں آتی۔حالانکہ یہ مضبوط تاثر موجود ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے اپنے منصوبہ کے تحت ابھی تک عمران خان پر ہاتھ ہولا رکھا ہوا ہے اور عدلیہ تو ایک مدد گار دوست کا کردار نبھا رہی ہے۔ اس وقت جو احتجاج ہو رہا ہے اسکی بڑی وجہ دو صوبائی حکومتوں کی عملی معاونت اور طاقتور اداروں کا ”نیوٹرل“ رہنا ہے ورنہ اس سے بھی کہیں زیادہ تیاری اور اشتعال کے ساتھ 25 مئی کو ہلہ بولنے کی کوشش وفاقی حکومت نے مکمل طور پر ناکام بنا دی تھی۔

پنجاب میں ن لیگ کی حکومت نے سرکاری وسائل کا چابکدستی سے استعمال کرتے ہوئے چڑیا کو بھی پر مارنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اس وقت پی ٹی آئی کی صفوں میں افراتفری کا یہ عالم تھا کہ عمران خان گرفتاری کے خوف سے بنی گالہ چھوڑ کر پشاور میں پناہ گزین ہوچکے تھے۔ ایسے میں ادارے خصوصاً عدلیہ مدد کے لیے نہ آتی تو یقیناً کہ اس کے بعد سے جو واقعات پیش آرہے ہیں وہ وقوع پذیر نہ ہوتے۔ 25 مئی اور اسکے بعد بعض حلقوں کی جانب سے ملنے والی حمایت سے پی ٹی آئی کے حامیوں کو یقین دلایا گیا کہ وہ نہ صرف گیم میں ان ہیں بلکہ ان کی بھرپور شان شوکت سے اقتدار میں واپسی بھی ممکن ہے اسی لیے پارٹی توڑ پھوڑ کا شکار نہیں ہوئی۔

دوسری جانب تحریک عدم اعتماد کامیاب کراکے حکومت سنبھالنے والی جماعتیں آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے باعث عوامی ردعمل کا نشانہ بنتے ہوئے دیوار سے لگتی چلی گئیں۔ 17 جولائی کو پنجاب اسمبلی میں اپنی ہی بیس میں سے پندرہ سیٹیں جیت کر پی ٹی آئی پھر بھرپور انتخابی فارم میں آگئی۔ پھر سپریم کورٹ نے ایک ایسے فیصلے کے نتیجے میں جس پر جو آنے والے کئی سال تک زیر بحث رہے گا، پنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت ختم کر کے اقتدار پی ٹی آئی کے حوالے اس انداز میں کیا گیا کہ دس سیٹوں والی ق لیگ سٹیرنگ کنٹرول کرے۔ وقت ثابت کررہا ہے کہ یہ کوئی نارمل سیاسی یا جمہوری عمل نہیں تھا بلکہ منصوبہ سازوں نے پنجاب میں ن لیگ کو کٹ ٹو سائز کرنے پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ”توازن“ پیدا کرنے کی کوشش کی۔اسکے بعد سے اب تو جو کچھ ہوتا آرہا ہے وہ اسی پالیسی کا شاخسانہ ہے۔

”مسلم اْمّہ“ کا جو عظیم لیڈر اپنی ہی حکومت کے دوران اپنی مرضی کی ایف آئی درج نہیں کرا سکتا۔ پنجاب میں تو وزارت اعلیٰ پرویز الٰہی کے پاس ہونے کا بہانہ کرنے کا جواز ہے مگر کے پی کے میں کیا ہوا۔ کورکمانڈر ہاؤس کے باہر ہلڑ بازی کرنے والے پی ٹی آئی کے حامیوں کے خلاف پشاور پولیس نے ایف آئی آر درج کرلی۔ اب گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

ایسے میں سوال تو اٹھتا ہے کہ ریاستی اداروں کے سامنے عمران خان اور پی ٹی آئی کے احتجاج کی کیا حیثیت ہے؟ تو پھر یہ نتیجہ کیوں نہ نکالا جائے کہ جن کے پاس سارا اختیار ہے حالیہ نقشہ بھی انہی کا ترتیب دیا ہوا ہے۔ وہ خود کیا چاہتے ہیں؟ یہ بات اسی مہینے میں سامنے آجائے گی۔ لیکن یہ یاد رکھیں جو کچھ بھی ہوگا وہ فیصلہ کن نہیں صرف اہم ہوگا۔ اس کے بعد کی پالیسیاں طے کریں گی کہ ہماری کوئی سمت ہے یا حسب سابق بے سمت ہی رہیں گے۔

مصنف کے بارے میں