'طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا امریکا اور افغان حکومت کی ذمہ داری ہے'

'طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا امریکا اور افغان حکومت کی ذمہ داری ہے'

زلمے خلیل زاد کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران افغان مفاہمتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا، ترجمان دفتر خارجہ۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے پاک افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران افغان مفاہمتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 

ترجمان کے مطابق اس دوران دونوں ممالک نے باہمی طور پر آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا امریکا، افغان حکومت اور دیگراسٹیک ہولڈرز کی ذمہ داری ہے اور اسی وجہ سے زلمے خلیل زاد باقی ممالک کا دورہ بھی کر رہے ہیں۔

 

مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و بربریت کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی قابض افواج کشمیریوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

 

ترجمان دفتر خارجہ نے حریت قیادت کی غیر قانونی حراست کے دوران سختیوں میں اضافے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انتخابات جعلی ہیں جن کا بھارت کو فائدہ نہیں ہو گا۔

 

بریفنگ کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان ڈرونز کی خریداری کے معاملے کے حوالے سے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ انہیں اس کا علم نہیں۔