حکومت کا ہیلتھ کارڈ کے اجرا، اسمگل شدہ موبائل فون بند کرنے کا اعلان

حکومت کا ہیلتھ کارڈ کے اجرا، اسمگل شدہ موبائل فون بند کرنے کا اعلان

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے رواں برس کے آخر تک غریب عوام کے لیے ہیلتھ کارڈ کے اجرا اور ملک میں اسمگل شدہ موبائل فونز بند کرنے کا اعلان کردیا۔


تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ نے کرپٹ عناصر کی نشاندہی کے نئے قانون وسل بلور پر آرڈیننس لانیکا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں معاشی صورت حال کی بہتری کے اقدامات اور آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی حکمت عملی پر کابینہ کو اعتماد میں لیا گیا۔

کابینہ کے اجلاس میں ای سی ایل میں نام شامل کرنے اور نکالنے کی لسٹ پر تفصیلی غور کیا گیا اور وزارت داخلہ نے ای سی ایل میں نام شامل کرنے اور نکالنے کی پالیسی پر بریفنگ دی جس پر وفاقی کابینہ نے ای سی ایل میں نام ڈالنے کے لیے شفاف نظام بنانے کی جامع پالیسی بنانے کی ہدایت دی۔

کابینہ کو وزیراعظم کے نیا پاکستان ہاوسنگ منصوبے کی تفصیلات پر بریفنگ دی گئی اور کابینہ نے وزارت ہاوسنگ سمیت تمام وزارتوں اور اداروں کو منصوبے سے متعلق امور جلد نمٹانے کی ہدایت کی۔اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے بھی بریفنگ دی، کابینہ نے کرپٹ عناصر کی نشاندہی کے نئے قانون وسل بلور پر آرڈیننس لانیکا فیصلہ کیا ہے، آرڈیننس کو موجودہ نیب اور ایف آئی اے کے قوانین سے ہم آہنگ کیا جائے گا، کرپٹ عناصر کی نشاندہی کرنے والے کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا، کرپشن کی نشاندہی اور غیر قانونی اکاونٹس سے حاصل رقوم کا 20 فی صدملے گا۔

کابینہ نے عطیہ کی جانے والی گاڑیوں کے لیے انکم ٹیکس اور سیلز کے آئی آر او میں چھوٹ کی سمری کی منظوری دی۔اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت پر تنقید کرنے والوں کی جرات پر حیران ہوں جبکہ پاکستان کے موجودہ حالات کے ذمہ داروں پر مقدمہ چلنا چاہیے، ان لوگوں نے جو کچھ پاکستان کے ساتھ کیا ہے، میرے خیال سے تو انہیں 6 ماہ تک گھر سے ہی نہیں نکلنا چاہیے تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے پارلیمانی کمیشن بننا چاہیے کہ گزشتہ 10 سال میں ملک کی معاشی حالت کا ذمہ دار کون ہے۔وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اجلاس کے دوران بعض افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل)میں شامل کرنے یا نکالنے سے متعلق غور ہوا۔

فواد چوہدری کے مطابق 3 ہزار کے لگ بھگ لوگوں کے نام ای سی ایل پر ہیں، اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کو کہا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ کہیں ایسے لوگ تو نہیں ہیں جنہیں انتقامی کارروائیوں کے سبب ای سی ایل پر ڈالا گیا ہو۔