افغانستان میں امریکی سفارتخانے پر راکٹ حملہ

افغانستان میں امریکی سفارتخانے پر راکٹ حملہ
image by facebook

کابل : افغانستان میں امریکی سفارتخانے پر راکٹ حملہ ، کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا ، حکام نے امریکی سفارت خانے کے احاطے کو بھی کلیئر قرار دے دیا۔


امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق رات گئے افغان دارالحکومت کابل کے وسط میں واقع سفارت خانے سے دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے، جس کے بعد سائرن بجنا شروع ہوگئے اور ملازمین نے لاؤڈ اسپیکر پر یہ اعلان سنا کہ ’ایک راکٹ کے باعث کمپاؤنڈ میں دھماکا ہوا ہے۔

امریکا میں 11 ستمبر 2001 کو ہونے والے حملوں کو 18 برس مکمل ہونے پر افغانستان میں موجود امریکی سفارت خانے پر راکٹ سے حملہ کر دیا گیا ، دوسری جانب امریکی سفارت خانے کے نزدیک موجود نیٹو مشن نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ حملے میں کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔

خیال رہے کہ افغانستان میں 18 برس سے جاری امریکا کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان اور ٹرمپ حکومت کے مابین ہونے والے مذاکرات کو ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ کر ختم کر دینے کے بعد کابل میں یہ اب تک کا پہلا بڑا حملہ تھا۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے طالبان نے کابل میں 2 کار بم دھماکے کیے تھے جس کے نتیجے میں نیٹو کے 2 اہلکاروں سمیت متعدد شہری ہلاک ہوگئے تھے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کو امریکا طالبان مذاکرات "مردہ" ہونے کی وجہ قرار دیا تھا جس کے بعد افغانستان میں حساس دن سمجھے جانے والے 11 ستمبر کے روز ہی کابل میں یہ حملہ ہوگیا۔

یاد رہے کہ 11 ستمبر 2001 کو امریکا کے شہر نیویارک میں واقع ٹوئن ٹاورز پر ہونے والے حملے کے بعد امریکا کی سربراہی میں افغانستان میں جنگ کا آغاز ہوا تھا جس کے نتیجے میں حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیے جانے والے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو پناہ دینے والے طالبان کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تھا۔