پیپلز پارٹی کا پی ڈی ایم کے تمام عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان

پیپلز پارٹی کا پی ڈی ایم کے تمام عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان

کراچی: پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ نےاہم ترین فیصلہ کیا ہے۔ پی ڈی ایم کے شوکاز نوٹس کے جواب میں پی ڈی ایم  کے تمام عہدوں سے  مستعفی ہونے  کا اعلان کردیا۔

کراچی میں سی ای سی کے دوروزہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ  پی ڈی ایم ایک سیاسی اتحاد ہے۔ کوئی جماعت کسی کy ماتحت نہیں۔شوکاز نوٹس دے کر دانستہ اپوزیشن اتحاد کو ناقابل تلافی نقصان پہچانے کی کوشش کی گئی۔پی ڈی ایم کو فعال رکھناہے تو پیپلز پارٹی اور اے این سے معافی مانگی جائے۔

انہوں نے کہا کہ سی ای سی کافیصلہ ہے استعفے آخری ہتھیار ہونے چاہئیں۔ ضمنی الیکشن میں حصہ لے کر حکومت کو بےنقاب کردیا ہے۔ دوسری جماعتوں کےکہنے پر چلتے تو یہ جمہوریت کیلئے اچھا نہیں ہوتا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سینیٹ اور  ضمنی الیکشن میں حصہ لیکر حکومت کو موقع نہیں دیا اور اپوزیشن جماعتوں کیلئے تاریخی کامیابی حاصل کی، ہم نے پی ٹی آئی حکومت کو کھلامیدان نہیں دیا بلکہ قومی اسمبلی میں ہرایا۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ جنہوں نے پارلیمان سے استعفیٰ دینا ہے تو دےدیں، کسی کو اختیار نہیں کہ اپنا فیصلہ کسی دوسری سیاسی جماعت پر مسلط  کرے۔پیپلزپارٹی پارلیمانی جماعت ہے کسی سےڈکٹیشن نہیں لےگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ن لیگ جب پاور میں تھی ہم نے پارلیمنٹ کا تحفظ کیا۔ آج بھی ہم نے پارلیمنٹ کا تحفظ کیا، پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کے شوکاز نوٹس کو مسترد کرتی ہے، اتحاد کی سیاست عزت اور برابری کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔

پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم کے تمام عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا شوکاز نوٹس پر پیپلزپارٹی اور اے این پی سے غیر مشروط معافی مانگی جائے۔

شوکاز نوٹس سے متعلق بلاول بھٹو نے کہا کہ سیاسی اتحاد میں کسی قسم کے شوکاز نوٹس کی کوئی مثال نہیں ملتی، پی ڈی ایم میں بھی شوکاز نوٹس کےحوالے سے کوئی مثال نہیں تھی، پی ڈی ایم کا ایکشن پلان ہے ہم غیر جمہوری طریقہ کار استعمال نہیں کریں گے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ پنجاب میں 5سیٹیں پی ٹی آئی کو دی گئیں تو کوئی شوکاز نہیں ہوا، شوکاز نوٹس کی کوئی روایت اور یہ جائز ہتھیار نہیں ہے، گلگت بلتستان میں بھی پیپلزپارٹی کا حق چھیننے کی کوشش کی گئی، ن لیگ نے گلگت بلتستان میں بھی اپوزیشن لیڈرکا حق چھیننے کی کوشش کی ۔

انھوں نے کہا کہ اپوزیشن کیخلاف اپوزیشن کی سیاست پر مزاحمت کرتے ہیں، اپوزیشن کی جو بھی سیاست ہے وہ برابری کی بنیاد پر ہونی چاہیے، ہم اے این پی کیساتھ کھڑے ہیں فیصلے مشورے سے کریں گے ، پیپلزپارٹی سیاسی جماعت ہے اور ہر اپوزیشن جماعت کی عزت کرتے ہیں۔

بلاول کا کہنا تھا کہ حکومت گرانےکیلئے ہر سیاسی جماعت کیلئے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں اپوزیشن جماعتوں کےدرمیان ورکنگ ریلیشن ہونی چاہیئے۔

انہوں نے آئی ایم ایف کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ٹی آئی کی آئی ایم ایف ڈیل عوام دشمن ہے۔اسکی مزمت کرتے ہیں اسکا بوجھ عوام پر پڑےگا۔مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کو اس ڈیل سے نکلنا چاہئیے ۔یہ بہت غلط ڈیل ہے اس سے ملک اور عوام کے معاشی حالات بگڑینگے۔یہ ڈیل ملک کے مزدور کے خلاف ہے۔مزدور پر اتنا بوجھ ڈالیں جتنا وہ برداشت کرسکیں۔حکومت بجلی گیس ، پیٹرول کی قیمتیں بڑھائے جارہی ہے۔پاکستان اور آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والی ڈیل کو پارلیمان سے خفیہ رکھا گیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ڈیل کے حوالے سے ہم نے معلومات حکومت سے نہیں بلکہ آئی ایم ایف سے حاصل کی ہے۔پاکستان کے عوام کے بینک کو ایک آرڈیننس کے تحت ملک کے آئین سے بالا تر کررہے ہیں ۔اس آرڈیننس کے تحت اسٹیٹ بینک پاکستان کے بجائے آئی ایم ایف کو جوابدہ ہوگا۔یہ آئین ہاکستان کے خلاف ہے ۔ہم اس آرڈیننس کی پارلیمان سمیت عدالت میں بھی چیلنج کریں گے۔ رمضان میں بھی اس آئی ایم ایف ڈیل کے خلاف مہم چلائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ استعفے آخری ہتھیار ہیں جنہوں نے استعفیٰ دینا ہے دیدیں۔ہمیں پارلیمنٹ اور سینیٹ کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔اپنے فیصلے دوسری جماعتوں پر مسلط نہ کریں۔اگر دوسری جماعتوں کے کہنے پر چلتے تو غلط ہوتا۔ ہم نے پارلیمنٹ کے تقدس کا خیال رکھا آئندہ بھی رکھیں گے۔