پاکستان ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے قریب ہے، ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے قریب ہے، ترجمان دفتر خارجہ
کیپشن:   پاکستان ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے قریب ہے، ترجمان دفتر خارجہ سورس:   فائل فوٹو

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے قریب ہے جبکہ 27 میں سے 24 اہداف پر عملدرآمد اس کا ثبوت ہے۔ 

برطانیہ کی طرف سے پاکستان کو ہائی رسک ممالک میں شامل کرنے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ ترمیمی ریگولیشنز کا جائزہ لیا۔ برطانیہ کا پاکستان سے متعلق موقف حقائق پر مبنی نہیں ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ دو سال میں اینٹی منی لانڈرنگ، کاؤنٹر ٹیرر فنانسنگ، قانون سازی، ادارہ جاتی اور انتظامی اقدامات اٹھائے۔ عالمی برادری نے پاکستان کے اقدامات کو تسلیم کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امید ہے کہ حقائق کی روشنی میں برطانیہ ریگولیشنز کا دوبارہ جائزہ لیتے ہوئے سیاسی بنیادوں پر غلط اقدامات سے اجتناب کرے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں برطانیہ نے پاکستان کو 21 ہائی رسک ممالک کی فہرست میں شامل کردیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی معاونت جیسے مسائل سے دوچار ممالک کو اس فہرست میں شامل کیا جاتا ہے۔

ہائی رسک ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 15 واں ہے جبکہ اس میں شام، یوگنڈا، یمن اور زمبابوے بھی شامل ہیں۔ دسمبر 2020ء کی برطانوی حکومت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ناجائز رقوم کا تبادلہ جاری ہے۔

برطانوی حکومت کے مطابق ٹیکس کنٹرول کا نہ ہونا، دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے مسائل سے دوچار ملک خطرہ ہیں۔