مجھے اس سے محبت کیوں نہیں رہی؟

 مجھے اس سے محبت کیوں نہیں رہی؟

(دوسری و آخری قسط گزشتہ سے پیوستہ)!!

پچھلے کالم میں ، میں یہ عرض کر رہا تھا اگر ماضی کے کرپٹ ، لالچی اور خوشامد پسند حکمرانوں اور سیاستدانوں کی ناقص یا مشکوک پالیسیوں پر دل کھول کر ہم تنقید کرتے رہے ہیں اور اس بنیاد پر وزیر اعظم خان صاحب دل کھول کر ہمیں خراج تحسین بھی پیش کرتے رہے ہیں، اور ہم مختلف گھٹیا انتقامی کارروائیوں کے نتیجے میں اس کا خمیازہ بھی بھگتتے رہے ہیں (ریکارڈ گواہ ہے) تو خان صاحب سے ہم نے کوئی معاہدہ نہیں کیا تھا کہ آپ جب اقتدار میں آئیں گے ہم آپ کے ہر اچھے برے کارناموں کی صرف مدح سرائی ہی کریں گے۔ حتیٰ کہ آپ آئین توڑیں گے ہم اس پر بھی صرف اس لئے خاموش رہیں گے کہ آپ کے ساتھ ہمارا ذاتی تعلق ہے۔ جب ملکی مفاد کی بات ہو جب کوئی ملکی آئین کو اپنے پائوں تلے روند رہا ہو صرف مجھے نہیں ہر اس شخص کو اذیت پہنچے گی جو وطن سے محبت کرتا ہے۔ جب سے تحریک عدم اعتماد کا سیاپا شروع ہوا میں بار بار اپنے کالموں میں اور مختلف نیوز چینلز پر بھی اپنے تجزیوں میں یہ عرض کر رہا تھا یہ اپوزیشنی سیاستدانوں کا انتہائی احمقانہ اقدام ہے۔ ضرور انہیں اس مقصد کے لئے کوئی اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرنا چاہتا ہے۔ میں اس اقدام کی کھلے الفاظ میں پرزور مذمت کر رہا تھا۔ میں نے اس حوالے سے یہ بھی عرض کیا ’’جس طرح طلاق ہمارے مذہب میں جائز ہے مگر یہ ایک انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے۔ اسی طرح تحریک عدم اعتماد ہماری سیاست میں یاجمہوریت میں جائز ہے مگر جب کسی حکومت کا ایک سال باقی رہ گیا ہو اسی صورت میں اس کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے ۔ جب تحریک عدم اعتماد کا پروسیس جاری تھا خان صاحب روز ایک نیا چورن مارکیٹ میں لے کے آ جاتے تھے۔ اصل میں وہ سیاستدان سے زیادہ ایک فنکار ہیں۔ میں نے چوبیس برسوں تک انہیں بہت قریب سے دیکھا ہے۔ سو بالآخر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں وہ کمال کے فنکار ہیں۔ حالات کے مطابق ایسی ایسی کمال کی دلیلیں، منطقیں گھڑ لیتے ہیں ، اور اس کے مطابق اپنے چہرے کے تاثرات بھی کر لیتے ہیں کہ اچھا بھلا عقل مند انسان ان کی اس فنکاری کے دھوکے میں مارا جاتا ہے۔ سو وہ روز بڑے یقین کے ساتھ ہمیں یہ یقین دلا رہے ہوتے تھے تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گی اور ان کا ایک ایم این اے ان سے الگ نہیں ہو گا۔ جہانگیر ترین گروپ اور علیم خان گروپ بھی واپس آ جائے گا۔ بلکہ ان کی گفتگو اور چہرے کے تاثرات سے یہ اطمینان بھی ہمیں ملتا رہا ’’نون لیگ کے بے شمار ارکان قومی اسمبلی بھی درپردہ ان کے ساتھ ہیں‘‘۔ یہی تاثر ان کے وزیر مشیر اور ترجمان بھی ہم ایسے ان کے چاہنے والوں کو دیتے رہے۔ شہباز گل جیسا گالم گلوچیا تو مسلسل یہ ’’راگ درباری‘‘ الاپ رہا تھا ‘‘ آدھی نون لیگ ہمارے ساتھ ہے۔ جس پر اعتماد لہجے میں خان صاحب بار بار سرپرائز دینے کا کہتے تھے ہمارے نزدیک وہ سرپرائز یہ تھا تحریک عدم اعتماد کے روز اپوزیشن اپنے ارکان پورے نہیں کر سکے گی ، اور خان صاحب اپوزیشن کی ساری سیاست ساری سازش الٹا کر رکھ دیں گے۔ ہم اس کے لئے دعاگو بھی تھے۔ ظاہر ہے خان صاحب کے ساتھ ہمارا پچیس برسوں پرانا یارانہ ، رشتہ یا تعلق ہے تو ہم کیسے یہ سوچ سکتے تھے یا یہ چاہ سکتے تھے ان کے خلاف ’’چور ڈاکو سیاستدانوں‘‘ کی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جائے؟ اپوزیشن کے ایک دو مرکزی رہنما اس دوران مجھ سے ملنے گھر آئے میں نے ان سے کہا آپ کا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا اب جبکہ موجودہ حکمرانوں کا صرف ایک سال کا عرصہ باقی رہ گیا ہے، اور یہ حکمران اپنی نااہلیوں اور حماقتوں کی وجہ سے رور بروز اپنی مقبولیت بھی کھو رہے ہیں ۔ اس دیوار کو آپ اپنے وزن سے کیوں نہیں گرنے دیتے؟ ظاہر ہے ان کی کچھ مجبوریاں تھیں اور خان صاحب نے انہیں تنگ ہی اتنا کیا ہوا تھا وہ ذہنی اور عملی طور پر استعمال ہونے کے لئے تیار ہو چکے تھے اور اس بار انہیں جو یقین دہانیاں کروائی گئی تھیں انہیں ایک فیصد اپنی ناکامی کا خدشہ نہیں تھا۔ دوسری طرف خان صاحب کو پورا یقین تھا تحریک عدم اعتماد وہ بری طرح ناکام بنا دیں گے۔ ایسے ہی بری طرح ناکام بنا دیں گے جس بری طرح انہوں نے اپنی حکومت کو ناکام بنایا تھا۔ جس روز تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی تھی۔ رات کو انہوں نے حسب معمول بڑی زور دار تقریر کی۔ اس تقریر میں وہ اتنے پراعتماد دیکھائی دیئے۔ ہمارے دلوں میں تھوڑا بہت جو شبہ تحریک عدم اعتماد کے کامیاب ہونے کا تھا وہ بھی جاتا رہا۔ سو ہم یہ اطمینان اپنے دل و دماغ میں پال کر بیٹھ گئے کہ آج پھر اپوزیشن کو منہ کی کھانی پڑنی ہے۔ ہمارا خیال تھا عمران خان کے مقدر کا ستارہ ہمیشہ چمکتا رہے گا۔ انہیں کسی ناکامی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اللہ اللہ کر کے تحریک عدم اعتماد کا روز آ گیا پاکستان کے کروڑوں کے ’’ہجوم‘‘ کی نظریں اس پر لگ گئیں۔ اجلاس شروع ہوا تو فواد چوہدری اس مبینہ خط کو بیچ میں لے آئے جس پر ابھی کوئی تحقیقات ہی شروع نہیں ہوئی تھیں۔ بس وزیر اعظم کا الزام تھا کہ امریکہ سے آنے والے اس خط میں چونکہ ان کی حکومت ختم کرنے کی سازش کا ذکر ہے لہٰذا تحریک عدم اعتماد پیش نہیں ہو سکتی ۔ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے فواد چوہدری کے اس جواز کو من و عن تسلیم کر کے اجلاس ختم کر دیا۔ تحریک عدم اعتماد پیش نہ ہو سکی۔ اس کے بعد وزیر اعظم نے صدر کو ایڈوائس بھیج دی کہ اسمبلیاں توڑ دی جائیں۔ آئینی طور پر جب کسی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی جا چکی ہو وہ صدر کو قومی اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس دے ہی نہیں سکتا۔ مہذب ملک اور مہذب معاشرے وزیر اعظم کے اس طرز عمل پر حیران تھے اور وزیر اعظم اس پر خوش تھے کہ انہوں نے آئین توڑ کر قوم کو بہت بڑا سرپرائز دیا۔ بس یہی وہ عمل تھا جس پر میرا یہ احساس ایک بار پھر مزید پختہ ہو گیا۔ یہ شخص اپنا اقتدار بچانے کے لئے صرف آئین نہیں اور بھی بہت کچھ توڑ سکتا ہے۔ آپ تو کھلاڑی تھے آپ کو پتہ ہے کھیل میں ہارجیت ہوتی رہتی ہے ۔آپ کو ’’سپورٹس مین سپرٹ‘‘ کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا۔ غلط یا صحیح کسی طور پر بھی آپ جب اکثریت سے محروم ہو گئے تھے آپ فوراًمستعفی ہو جاتے۔ مقررہ مدت پر الیکشن کی تیاری کرتے۔ عوام کو بتاتے چار برسوں کی حکومت میں ہماری یہ کامیابیاں ہیں اور یہ ناکامیاں ہیں مگر افسوس ایک مبینہ خط کی آڑ میں آپ نے جو گھنائونا کھیل کھیلا اس کے نتائج آپ سے زیادہ اس ملک کو بھگتنا پڑیں گے!!

مصنف کے بارے میں