سابق وزیراعظم کی گھر واپسی، چوتھے روز قافلہ لاہور کی جانب رواں دواں

سابق وزیراعظم کی گھر واپسی، چوتھے روز قافلہ لاہور کی جانب رواں دواں

گوجرانوالہ: سابق وزیراعظم نواز شریف کا قافلہ آج گوجرانوالہ سے لاہور کیلئے رواں دواں ہے اور وہ اپنا آخری خطاب داتا دربار پر کریں گے۔ مریدکے پہنچنے پر سابق وزیراعظم کا شاندار انداز میں استقبال کیا گیا اور کارکنوں کی جانب سے ان کی گاڑی پر گل پاشی کی گئی اور ان کے حق میں نعرے لگائے گئے۔ نواز شریف نے کارکنوں کے نعروں کا جواب ہاتھ ہلا کر دیا۔


مریدکے میں سابق وزیراعظم کا خطاب

مریدکے میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایک بار پھر اپنے الفاظ کو دہراتے ہوئے کہا چند لوگ پاکستان کے مالک نہیں ہو سکتے کیونکہ پاکستان کے 20 کروڑ عوام اصلی مالک ہیں۔ آپ نے نواز شریف کو وزیراعظم بنا کر بھیجا تھا لیکن آپ کے ووٹ کی توہین کر کے ایک منتخب وزیراعظم کو نکال دیا گیا۔

انہوں نے کارکنوں سے سوال کیا کہ آپ کو ووٹ کی توہین منظور ہے۔ اپنے خطاب میں ان کا مزید کہنا تھا میں نے کوئی کرپشن نہیں کی اور نہ ہی کوئی ہیرا پھیری کی اگر بیٹے سے تنخواہ لی بھی تو کیا ہوا۔2013 میں نہ چولہا جلتا تھا نہ پنکھا چلتا تھا نہ کارخانہ لیکن میں دن رات آپ کی خدمت کر رہا تھا لیکن اس ترقی کو روک دیا گیا ہے۔ اگر ترقی کی یہی رفتار رہتی تو اگلے دو تین سالوں میں بیروزگاری کا خاتمہ ہو جاتا۔ انہوں نے مزید کہا یہ گھناونا کھیل کسی اور ملک نہیں ہو رہا صرف پاکستان میں ہو رہا ہے اب اس کو بدلنا ہوگا اور آپ کے ووٹ کا احترام اس ملک میں ہو گا۔ 

لاہور روانگی سے قبل مشاورتی اجلاس

میڈیا رپورٹس کے مطابق نواز شریف نے گوجرانوالہ سے لاہور روانگی سے قبل مشاورتی اجلاس کی صدارت کی جس میں غلام دستگیر، عابد شیر علی، خرم دستگیر، ماروی میمن، رانا ثنا اللہ اور انجینئر امیر مقام شامل تھے۔

مشاورتی اجلاس میں نواز شریف نے کہا کہ میری نا اہلی کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھا ہم سپریم کورٹ میں کچھ بھی کر لیتے یہ ہی فیصلہ ہونا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا اگر سپر یم کورٹ کے اس فیصلے کو عالمی عدالت میں لے جاوں تو عالمی عدالت ایک منٹ میں اس فیصلے کو ختم کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ بیٹے سے پیسے نہیں لیے تو یہ فیصلہ کیا گیا اگر بیٹے سے پیسے لے بھی لیتا تو فیصلہ یہ ہی ہونا تھا کیونکہ فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھا۔

کامونکی، سادھوکی، مرید کے، کالا شاہ کاکو میں استقبال کی تیاریاں جاری ہیں۔ ن لیگ کی ریلی کے تمام راستوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

سابق وزیر اعظم کیلئے پہلوانوں کے شہر میں تگڑے ناشتے کا اہتمام

پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ میں نواز شریف مہمان اور خرم دستگیر کے بہنوئی بنے میزبان سابق وزیر اعظم کے لیے پہلوانوں کے شہر میں تگڑے ناشتے کا اہتمام کیا گیا۔ ناشتے کی میز پر سری پائے، نہاری، چنے، حلوہ پوری، نان  اور لسی سمیت دیگر لوازمات سجائے گئے۔

ماروی میمن کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے ناشتے میں پائے نہیں کھائے لیکن اس کے علاوہ انہوں نے کیا کھایا وہ دیکھ نہیں پائیں۔

ماروی میمن نے اپنے بارے میں انکشاف کیا کہ انہیں خرم دستگیر اور عابد شیر علی نے گوجرانوالہ کا ناشتہ کرنا سکھایا۔ ماروی میمن کے مطابق انہوں نے سری پائے میں چنے اور مغز ملا کر کھایا۔

 یاد رہے گزشتہ روزکارکنوں اور حامیوں کے قافلے میں گھرے نواز شریف گزشتہ رات گوجرانوالہ پہنچے تھے۔

گوجرانوالہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ پرتپاک استقبال کرنے پر عوام کا شکر گزار ہوں اور فقید المثال استقبال زندگی بھر یاد رکھوں گا۔ خوش نصیب ہوں کہ گوجرانوالہ کے عوام مجھ سے اتنا پیار کرتے ہیں جبکہ گھر جاتے ہوئے عوام کا پیار مجھے نصیب ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے مجھے منتخب کر کے وزیر اعظم بنایا اور دوسروں نے نکال دیا۔ مجھے اقتدار سے تو نکال دیا گیا لیکن عوام کے دلوں سے نہیں نکال سکے پاکستان کے مالک 20 کروڑ عوام ہیں اور کل پھر مجھے لوگ وزیر اعظم بنا دیں گے لیکن میرا مقصد وزیر اعظم بننا نہیں۔

نواز شریف نے کارکنوں سے سوال کیا کہ ’مجھے کیوں نکالا گیا؟ مجھے اس لیے نکالا گیا کہ پاکستان کے اندھیرے ختم ہو رہے تھے؟۔ پاکستان کی روشنیاں واپس آ رہی تھیں اور لوڈشیڈنگ ختم ہو رہی تھی جبکہ ملک ترقی کر رہا تھا جس کو دنیا تسلیم کر رہی تھی جبکہ کارخانے چلنے لگے تھے اور بیروزگاری ختم ہو رہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ترقی بعض لوگوں کو راس نہ آئی اور سازشیں شروع ہو گئیں کیونکہ مخالفین کو ڈر تھا کہ نواز شریف کامیاب ہو گیا تو اگلی باری پھر اس کی ہو گی۔ میرے خلاف پچھلے ساڑھے 3 سال سے سازشیں ہو رہی ہیں تمام سازشوں کے باوجود ملکی ترقی کا پہیہ تیز کیا لیکن اس کے باوجود مجھے عدالت عظمیٰ سے رسوائی کے ساتھ نکالا گیا جبکہ مجھے نکالنے والے بھی مانتے ہیں کہ میں نے کوئی کرپشن نہیں کی۔

نواز شریف نے گجرات میں ریلی میں شامل ایلیٹ فورس کی تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے 9 سالہ بچے کے جاں بحق ہونے کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے اس کارکن کے گھر تعزیت کرنے خود جاؤں گا اور ہم سے اس کے خاندان کی جو مدد ہو سکی کریں گے۔

گوجرانوالہ پہنچنے پر ان کی مہمان نوازی وفاقی وزیر خرم دستگیر کے بہنوئی کی حویلی میں کی گئی۔ ڈنر میں سادہ کھانے کے ساتھ ساتھ پرتکلف اور خصوصی ڈشوں کا بھی اہتمام کیا گیا۔ کھانے میں دال گوشت، آلو گوشت، پائے، مٹن قورمہ، دیسی مرغی کا سالن، باربی کیو اور گوجرانوالہ کے مشہور روایتی چڑے بھی دستر خواں کی زینت بنے۔

جہلم سے گوجرانوالہ کے دوران کا سفر بھی دیدنی تھا۔بھنگڑے، نعرے جوش و ولولہ کے ساتھ قافلہ تمام رنگوں سے لبریز تھا۔ اپنے قائد کی سلامتی کے لیے کئی کارکنان نے راستے میں بکروں اور اونٹوں کی قربانی بھی دی۔

گجرات میں میاں نواز شریف نے نماز جمعہ ادا کی تھی جس کے بعد قافلہ دوبارہ منزل کی جانب گامزن ہوا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں