نوجوان نسل کو درپیش مسائل اور انکا حل

نوجوان نسل کو درپیش مسائل اور انکا حل

اقوام متحدہ کی1999میں منظور ہونے والی قرار داد 54/120 کی روشنی میں ہر سال 12اگست کو نوجوانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن دنیا بھر کی ترقی و خوشحالی میں نوجوانوں کے کردار، ان کی اہمیت و افادیت کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں رونما ہونے والی ملی ترقی، معاشرتی اصلاح، پائیدار ترقی کے اہداف کا بغور جائزہ لیا جائے تو ہم نوجوانوں کا ایک اہم کردار دیکھتے ہیں۔ ہر سال نوجوانوں کے عالمی دن کو مختلف عنوان کے ساتھ منایا جاتا ہے اس سال 2021میں اس کا عنوا ن نظام خوراک ہے۔ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ دنیا کی ترقی میں نوجوانوں نے ایک اہم ترین کردار ادا کیا ہے اسی طرح دنیا بھر میں نظام صحت کے حوالے سے کی جانے والی تمام تر کاوشیں نوجوانوں کی ایجادات اور انکی شمولیت کے بنا ادھوری ہیں یا یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ نا ممکن ہیں۔ نظام صحت سے منسلک اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے بھی انسانی زندگیوں کی بقا میں نوجوانوں کی انفرادی یا اجتماعی کاوشوں کی اہمیت و ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

 اقوام متحدہ کے مطابق اگلے تیس سال میں دنیا کی آبادی میں 2ارب تک کا اضافہ ممکن ہے۔ یہ بھی متعدد اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے تسلیم شدہ ہے کہ محض صحت مندانہ خوراک کی پیداوار میں اضافہ ہی انسانی صحت و بہترین زندگیوں کے لئے کافی نہیں بلکہ پائیدار ترقی کے دیگر اہداف بشمول حفظان صحت، موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ، غربت کا خاتمہ وغیرہ پر بھی غور و فکر کی ضرورت ہے جیسا کہ ماضی میں بھی موسمیاتی تبدیلی، بے روز گاری، بنیادی ضروریات اور فکری و نظریاتی تنازعات کا حل عالمی ترجیحات رہی ہیں۔ عالمی وباء کورونا کے باعث بے روز گاری نے اپنے پنجے گاڑ لئے ہیں ، انسانی زندگیا ں مفلوج ہو چکی ہیں،نظام صحت، خوراک سبھی کچھ متاثر ہو کر رہ گیا ہے، ملازمتوں کے مواقع کم ہو گئے ہیں۔

 جہاں تک بات پاکستان کی ہے تو اقوام متحدہ ڈویلپمنٹ پروگرام کی رپورٹ نیشنل ہیومن ڈویلپمنٹ کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا 64فیصد نوجوانوں  پر مشتمل ہے جن کی عمر 30 سال سے کم ہے جس میں 29فیصد 15سے 29سال کی عمر کے افراد ہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق پاکستان نوجوان اکثریت کا حامل ملک ہے اسی طرح ساؤتھ ایشین ریجن میں بھی پاکستان دوسرے نمبر پر نوجوانوں کا حامل ملک ہے۔ ضروت اس امر کی ہے کہ ان نوجوانوں کو ترقی کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ ان کی صلاحیتوں کو صحیح سمت میں موڑا جائے۔ان کی تعلیم اور ملازمت وغیرہ پر توجہ دی جائے تاکہ دنیا بھر کی ترقی یافتہ اقوام کی طرح پاکستان کے جوانوں کی حلاحیتوں کو بروئے کار لایا جا سکے۔

 عالمی یوم نوجوان کے موقع پر فخر پاکستان ندیم اشرف کی پاکستان کے لئے خدمات کا اعتراف حکومتی سطح پر کیا جانا چاہئے جس نے کم وسائل کے باوجود اولمپکس میں سبز ہلالی پرچم کی لاج رکھی اور نوجوان نسل کو کھیلوں کے میدان کی طرف راغب کرنے کے لئے مشعل روشن کی۔ اگر ہم شدت پسندی، فرقہ واریت، بے روزگاری، منشیات کی کثرت کے اس ماحول میں صحت مندانہ سر گرمیاں چاہتے ہیں تو کھیلوں کو فروغ دینا ہوگا۔ میدانوں کو رونق بخشنا ہوگی۔ ٹاؤن سطح پر سپورٹس کمپلیکس بنانا ہونگے جہاں ہر خا ص و عام کو مفت رسائی حاصل ہو اور ان کمپلیکس میں ٹرینرز کے ساتھ ساتھ دیگر تمام سہولیات بھی فراہم کی جانی چاہئیں ۔ یہ تمام تر کاوشیں پاکستانی نوجوانوں کی عالمی سطح پر پوزیشن بہتر کریں گی۔ 

 پاکستان کی پچاس سے زائد یونیورسٹیز کے کنسورشیم ’’انٹر یونیورسٹی کنسورشیم برائے فروغ سماجی علوم‘‘ کی جانب سے نوجوانوں کو صحت مندانہ اور غیر نصابی سرگرمیاں فراہم کرنے کے لئے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں مختلف شہروں میں تین انٹر نیشنل اسٹو ڈنٹس کنونشنز کا انعقاد کیا جا چکا ہے جس میں براہ راست ہزاروں طلباء مختلف سر گرمیوں میں ملوث رہے۔ اسی طرح جامعات میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت پر قابو پانے، جامعات میں مکالمے کے کلچر کے فروغ اور رواداری کے لئے طلباء اور فیکلٹی کے ساتھ مختلف سیشنز کا انعقاد بھی کیا جاتا رہا ہے۔ امن کے حوالے سے نیشنل وائس چانسلر زکانفرنس کا انعقاد بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ وطن عزیز کی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ تعلیمی ترجیحات کا نہ ہونا ہے ہمیں تعلیم کے سالانہ بجٹ میں اضافہ کرنا ہوگاجو کہ مجموعی بٹ کا کم از کم 4 فیصد ہوناچاہئے۔ نوجوانوں کو غیر نصابی سر گرمیوں میں ملوث رکھنے کے لئے اسٹو ڈنٹس سو سائیٹیز، اور یوتھ کلبز تشکیل دینا ہونگے۔

یوم نوجوان 2021مطالبہ کرتا ہے کہ نوجوانوں کے موثر کردار کو اجاگر کیا جائے اور نوجوانوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔اسی طرح ہمیں اپنے نوجوانوں کو نصابی اور غیر نصابی تمام تر سہولیات سے آراستہ کرنا ہوگا۔ پاکستان میں جامعات کی تعداد میں اضافہ تو ہو رہاہے لیکن اعلیٰ تعلیمی شعبہ مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جائے۔

محدود بجٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں تعلیمی میدان میں پبلک۔ پرائیویٹ پارٹنر شپ پر فوکس کرنا ہوگا تاکہ ہم اپنی نئی نسل کو بہترین تعلیم فراہم کر سکیں۔