قائد اعظم کا معاشی پاکستان! ایک ادھورا خواب

قائد اعظم کا معاشی پاکستان! ایک ادھورا خواب

اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان آج اپنی آزادی کے چوہتر 74 سال پورے کر رہاہے اور پچھترویں سال میں قدم رکھ رہا ہے۔

 1940 کے بعد تحریک پاکستان میں تیزی آئی۔ برصغیر کے مسلمان قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیزقیادت میں متحد تھے۔وہ حصولِ پاکستان کے لیے بے شمارقربانیوں کے ساتھ سرگرداں تھے۔ ہمارے مخالف ہندو، مسلمانوں پر طنز کے تیر چلاتے تھے کہ پاکستان کے حصّے میں جو علاقے آرہے ہیں وہ انتہائی پسماندہ ہیں۔ جلد ہی پاکستان معاشی طور پر کمزور ہونے کے ناتے ختم ہوجائیگا اور بھارت کی گود میں آن گرے گا۔ اس کا جواب قائداعظم نے یہ یوںدیا کہ’’میں کہہ سکتا ہوں ایک عام فرد کے طور پر اور یہ میری پختہ رائے ہے کہ پاکستان کبھی دیوالیہ نہیں ہوگا بلکہ یہ ایک بہت طاقتور ملک ہوگا۔

 اس کا جواب ہمیں پاکستان بننے کے ایک سال بعد پیسہ اخبار کے اس اداریے سے ملتا ہے جو 26 اپریل 1948 کو شائع ہوا جس کے مطابق 10، اگست 1947 سے 30 دسمبر 1947 تک پاکستان سے 22 کروڑ کا مال برآمد کیا گیا اور 9 کروڑ کا مال درآمد کیاگیا، یعنی اس عرصہ میں 13 کروڑ سے توازن پاکستان کے حق میں رہا۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان کا مستقبل کتنا شاندارہے اور یہ اعدادوشمار پاکستان کے متعلق دشمنوں کے پروپیگنڈہ کا صحیح جواب ہیں۔

اکثر لوگوں کایہ خیال ہے کہ قائداعظم بنیادی طور پر قانون دان تھے اوروہ اقتصادی اور معاشی معاملات پر گہری نظر نہیں رکھتے تھے۔ یہ محض خام خیالی تھی۔ وہ انتہائی دور اندیش اور زیرک انسان تھے۔ ان تمام عناصر پر ان کی گہری نظر تھی جو کسی بھی ملک کو اقتصادی اور معاشی طور پر خود کفیل بنا سکتا تھا۔ اسی لیے جناح اچھی طرح جانتے تھے کہ پاکستان میں شامل ہونے والے علاقے معاشی اور صنعتی طور پر پس ماندہ ہیں۔

جناح نے مسلمان تاجروں کو کاروبار ، تجارت اور صنعت میں داخل ہونے کی ترغیب دی۔ 1941 میں لاہور میں پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک قوم بنانے کے تین اہم عناصر تعلیم ، معیشت اور دفاع کی نشان دہی کی۔

جولائی 1943 میں بلوچستان مسلم لیگ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ، انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا: جب تک کوئی قوم معاشی طور پر کمزور ہے ، وہ زندگی کی جنگ جیتنے کی امید نہیں رکھ سکتی ۔جیسے جیسے پاکستان تحریک نے زور پکڑا ، آل انڈیا مسلم لیگ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں جناح کو ایک کمیٹی مقرر کرنے کی اجازت دی گئی کہ پاکستان کے مختلف زونوں میں معاشی اور سماجی ترقی کے لیے پانچ سالہ پروگرام کے لیے ایک جامع اسکیم تیار کی جائے۔

اس قرارداد کے مطابق ، جناح نے اگست 1944 میں 23 رکنی پلاننگ کمیٹی مقرر کی جس میں نواب علی نواز جنگ چیئرمین اور پروفیسر اے بی اے حلیم سیکرٹری مقرر ہوئے۔ اس کمیٹی میں قائداعظم کی ذاتی دعوت پر جناب ڈاکٹر ذاکر حسین خان، عبدالرب نشتر، لائق علی، الیاس برنی، احمد اصفہانی ، رفیع بٹ جیسی اپنے زمانے کی نابغہ روز گار شخصیات شامل تھیں۔ 1945 تک ، منصوبہ بندی کمیٹی نے انتہائی مربوط اقتصادی ترقی پر ایک بیس سالہ (1945-65ء )رپورٹ تیار کی تھی۔ رپورٹ میں چار پانچ سالہ ترقیاتی منصوبہ جات شامل کیے گئے، جس میں تعلیم کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔ جناح نے اس نظریہ کی مکمل حمایت کی۔ 14 جنوری 1945 کو گجرات مسلم تعلیمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ، انہوں نے مشورہ دیا کہ ہمیں اپنے لوگوں کی تعلیمی ، سماجی اور معاشی ترقی کے لیے اپنی قوتوں کو مضبوط بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ہماری قوم کے لیے زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔

اس طرح پندرہ ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جو معاشی زندگی کے ہر پہلو سے متعلق تھیں۔ 1۔ زرعی پیداوار اور مٹی کے تحفظ اور جنگلات 2۔جانوروں کی پرورش اور ڈیری ، 3۔ماہی گیری ،4۔پانی کے استعمال اور دریا کی ریگولیشن ، 5۔مواصلات اور نقل و حمل کی خدمات بشمول جہاز رانی ،6۔دیہی اور کاٹیج انڈسٹری ،7۔ ایندھن اور بجلی ، 8۔ کان کنی اور دھات کاری ، 9۔کیمیائی صنعت ، 10۔ مینوفیکچرنگ اور انجینئرنگ ، 11۔ٹرانسپورٹ انڈسٹریز ، 12۔ فنانس ، 13۔ پبلک ہیلتھ ، 14۔ہاؤسنگ اور 15۔ٹریڈ اینڈ کامرس پر ذیلی کمیٹیاں تھیں۔ ان 15 ذیلی کمیٹیوں کو پانچ سربراہوں کے تحت رکھا گیا ، یعنی زراعت ، صنعت ، ٹرانسپورٹ ، تجارت اور مالیات۔ ان سب کو ملک کی موجودہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے اپنی رپورٹوں کا مسودہ تیار کرنا اور پیش کرنا ضروری تھا۔ان کمیٹیوں نے مسلسل تین سال دن رات ایک کر کے 1945ء میں ایک شاندار منصوبہ بندی کا پروگرام قائد کی خدمت میں پیش کیا جو تقریباً 96 سفارشات پر مبنی تھا۔ لیکن افسوس کہ پاکستان بننے کے بعد اور قائد کی بہت جلد رحلت کی بنا پر یہ منصوبہ پروان نہ چڑھ سکا۔

جناح نے مختلف معاشی کاروبار شروع کیے۔ انہوں نے اصفہانیوں کو مغل لائنز شپنگ کمپنی خریدنے کی ترغیب دی۔ ان کا خیال تھا کہ چونکہ یہ سرمایہ کاری کے لیے ایک اچھا چینل ہے اس لیے مسلمانوں کو اس کے مالک ہونے کے لیے آگے آنا چاہیے۔ بینکنگ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ، انہوں نے مسلم کمرشل بینک ، سنگاپور میں ایک مسلم بینک ، اور بھوپال اور آسام میں حبیب بینک کی شاخوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کی۔ اسی طرح محمدی سٹیم شپ کمپنی 5 کروڑ روپے کے سرمائے سے شروع کی گئی۔ یہاں تک کہ 1947 کے مصروف اور ہنگامہ خیز مہینوں میں تقسیم سے عین قبل ، انہوں نے ذاتی ایکویٹی شراکت25000 روپے کے ساتھ، ایک ایئر لائن ، اورینٹ ایئر ویز کے منصوبے کی حمایت کی۔

ستمبر 1947 میں ، جناح نے اقتصادی انتظام اور پبلک فنانس کے ایک برطانوی ماہر آرچی بالڈ رولینڈز کی خدمات حاصل کیں ، جو اس سے قبل وائسرائے کونسل کے فنانس ممبر تھے۔ رولینڈز نے مالی پوزیشن ادائیگیوں کے بین الاقوامی توازن اور مستقبل کے معاشی امکانات کا گہرائی سے سروے کیا۔ ان کی سفارشات میں کچھ بنیادی اقدامات شامل تھے ، خاص طور پر خالص زرعی آمدنی اور جائیداد کے فرائض پر ٹیکس لگانے اور زمینداری کے خاتمے سے متعلق اقدامات جو مغربی پاکستان میں طاقتور جاگیردارانہ لابی کی وجہ سے نافذ نہیں ہو سکے۔

اپنی وفات سے چار ہفتے پہلے ، آزادی کی پہلی سالگرہ پر ، جناح نے قوم کو یہ واضح پیغام دیا’’قدرت نے آپ کو سب کچھ دیا ہے ، آپ کو لامحدود وسائل ملے ہیں۔ آپ کی ریاست کی بنیادیں رکھ دی گئی ہیں ، اور اب یہ آپ کے لیے ہے کہ تعمیر کریں ، اور جلدی اور جتنا آپ کر سکتے ہیں تعمیر کریں۔ تو آگے بڑھو اور میں تمہارے لیے خدا سے دعا گوہوں‘‘۔

مذکورہ بالا مشاہدات سے پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ قائداعظم پیشہ ور ماہر معاشیات نہیں تھے، انہیں بنیادی تصورات پر مضبوط گرفت تھی جو کہ فلاح و بہبود پر مبنی معاشی فلسفہ ہے۔انہوں نے معاشرے کو مناسب قابل عمل شکل میں دیکھا جس میں مجموعی طور پر کمیونٹی کے مفادات انفرادی مفادات سے بالاتر تھے اور معاشی تعلقات خالص منافع کے حصول کے عزائم کے بجائے خیر سگالی اور دوسرے کے مفاد کی فکر سے متاثر تھے۔ اس قسم کے معاشرے کو عوام کے مفادات کو پورا کرنا چاہیے اوران کو پورے ملک میں لوگوں کی مکمل حمایت حاصل ہونی چاہیے۔

یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ قائداعظم کی فلاح و بہبود کا نقطہ نظر پاکستان کی عوامی معیشت کا اہم حصہ کیوں نہیں بن سکا؟ اگرچہ پاکستان نے شروع سے ہی 1947 میں آغاز کیا تھا ، اور اس کے بعد سے اس نے مختلف اقتصادی شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے ، یہ کسی بھی طرح ایک فلاحی ریاست کے طور پر ابھر کر سامنے نہیں آیا۔ اس حالت کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ قائداعظم کی وفات کے چند سال بعد اقتدار ان مفادات کے ہاتھوں میں چلا گیا جنہیں سماجی و معاشی مقاصد یا نظریہ پاکستان سے کوئی ہمدردی نہیں تھی۔

پاکستان کی معاشی تاریخ میں خاص طور پر منصوبہ بندی میں قائد اعظم کا قابل قدر حصہ قابل تعریف تھا۔ منصوبہ بندی کمیٹی کی رپورٹ مکمل معاشی سوچ ، بصیرت اور ہدایات فراہم کرتی ہے۔ پاکستان کے پہلے پانچ سال کے منصوبے نے نہ صرف حوصلہ افزائی کی ہے ، بلکہ اس اہم کوشش سے کچھ اصول بھی اختیار کیے ہیں ، اور اس سے بہتر کامیابی حاصل ہوئی۔ حالیہ اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو بطور گائیڈ لائن استعمال کرنے کی حالیہ سفارشات کمیٹی کے اراکین کی ذہانت کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں ، جنہوں نے نئے ابھرتے ہوئے ملک کو منصوبہ بندی کی سمت فراہم کی۔ اس کے نفاذ کے بعد منصوبہ بندی کی پچھلی دہائیوں کے دوران خواب کو حقیقت میں بدل دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ ساز اور پالیسی سازوں پر منحصر ہے کہ وہ قائد اعظم کیمعاشی خواب کو اس کی حقیقی روح میں تبدیل کریں۔

آج 74 سال بعد جب ہم پاکستان پر نظر ڈالتے ہیں تو لگتاہے کہ قائد کا خواب اب بھی تشنہ تعبیر ہے۔ حال ہی میں ٹوکیو اولمپکس میں 22کروڑ کا پاکستان ایک کانسی کا تمغہ بھی نہ جیت سکا۔ ہم کو رول ماڈل بنانے والے ملک جنوبی کوریا، ملائیشیا ، ترکی وغیرہ معاشی طور پر اب پاکستان کے لیے رول ماڈل بن چکے ہیں۔ قائداعظم نے 21 فروری 1948ء کو کہا تھا ’’قیامِ پاکستان کی جنگ ہم جیت چکے۔مگر استحکامِ پاکستان و بقائے پاکستان کی شدیدترین جنگ ابھی جاری ہے‘‘۔ یہ جنگ 2021ء میں بھی جاری ہے اوروقت کا تقاضا ہے کہ آج کے دن ہم تجدیدِ عہد اور وفائے عہد کریں اور خاص طور پر موجودہ حکومت کو چاہیے کہ ملک کی تمام سیاسی، معاشی، دینی، علمی، سائنسی ، تجارتی ، بیوروکریسی اور اورسیز پاکستانیوں میں سے اہل ترین افراد پر مشتمل ایک قائداعظم کی طرح کی پلاننگ کمیٹی بنائے اور پاکستان کو روشن اور شاندار مستقبل کے لیے بہترین منصوبہ سازی کرے تاکہ ہم قائداعظم کے ادھورے خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں۔

شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے

یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید سے

(اقبالؒ)