’’سکندر اعظم ‘‘ کا فرار

’’سکندر اعظم ‘‘ کا فرار

سانحہ لسبیلہ میں فوجی افسروں کی شہادت کے بعد سوشل میڈیا پر منظم غلیظ مہم اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوئی ۔ اس سے پہلے ہر طرح کے زبانی کلامی حملوں کے باوجود ‘‘ شہ دماغوں ‘‘ نے طے کر رکھا تھا کہ پی ٹی آئی کی حفاظت اثاثے کے طور پر کی جائے گی۔ عمران حکومت کا خاتمہ ہونے کے بعد قائم ہونے والی سیاسی اتحاد کی مخلوط حکومت کو یہ بات اچھی طرح سمجھا دی گئی تھی کہ پچھلے چار سالوں میں ان کے ساتھ جو مظالم اور زیادتیاں ہوئی ہیں انہیں بھلا کر آگے بڑھنا ہوگا ۔ اسی لیے ریاستی ادارے باربار پی ٹی آئی کو ریسکیو کرنے کے لیے سامنے آتے رہے ۔Above The Law  کہتے ہیں ۔ خود پی ٹی آئی کو بھی اندازہ تھا کہ جب ساری سیاسی جماعتیں ایک طرف ہوگئی ہیں تو اسٹیبلشمنٹ سارے انڈے ایک ٹوکری میں نہیں ڈالے گی ۔ عمران خان نے اس صورتحال سے خوب فائدہ اٹھایا اور آگے بڑھتے ہی چلے گئے ۔ بات صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں تھی بلکہ چار ، پانچ چینلوں پر بیٹھے آٹھ، دس تجزیہ کار بھی اس خرابی میں بھرپور حصہ ڈال رہے تھے ۔ عدلیہ کے مخصوص جج جب بار بار پی ٹی آئی کو ریلیف دینے کیلئے ازخود اپنی خدمات پیش کرتے تو اس تاثر کو تقویت ملتی کہ عمران خان اب بھی لاڈلے ہیں۔ ایسا نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سب کچھ ٹھنڈے پیٹوں برداشت کررہی تھی بلکہ بعض مواقع پر تنبیہ بھی کی جاتی رہی ۔ وہ آڈیو لیک جس میں بشریٰ پنکی صاحبہ ، اپنے سوشل میڈیا ہیڈ ڈاکٹر ارسلان خالد کو ہدایت دے رہی ہیں کہ جو ہماری کرپشن پر آواز اٹھائے اسے غداری سے لنک کردو ‘‘ اسی لئے جاری کرائی گئی تھی کہ بنی گالہ کی ہر حرکت پر اداروں کی نظر ہے ۔ اس لیے اوقات میں رہا جائے ۔ عمران خان جب وزیر اعظم تھے تو ان کے بارے میں ایک سینئر پارٹی لیڈر نے کہا تھا کہ کپتان کو پروٹوکول کا نشہ لگ چکا ہے ۔ جب اقتدار نہیں ہوگا اس کی حالت پانی سے باہر پڑی مچھلی جیسی ہوگی ۔ ادھر عمران خان کا خیال تھا کہ ان کی حکومت کا سارا ملبہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد کی حکومت کے سر پر پڑ چکا ہے ۔ اس لیے زور لگا کر حکومت گرادی جائے ۔ وہ اپنے جلسوں میں جہاں ایک طرف فوجی قیادت پر تابڑ توڑ حملے کرتے رہے تو دوسری سانس میں ہی درخواستیں ڈال دیتے تھے کہ نیوٹرلز اپنی نیوٹریلٹی چھوڑ کر پھر یکطرفہ فریق بن جائے اور انہیں پھر سے وزارت عظمی کی کرسی پر بیٹھا دیں ۔ عمران کا یہ اضطراب اس وقت تڑپ میں بدل گیا جب یہ نوٹ کیا گیا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ کے مضر اثرات زائل ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ یہ سلسلہ جاری رہا تو حکومت کو زیادہ دیر تک پاؤں جمانے کا موقع مل جائے گا ۔ اسی سوچ کے تحت شہباز گل نامی مشکوک اور بدتمیز امریکی شہری کو ایک طے شدہ منصوبے کے تحت مخصوص ٹی وی چینل پر بھیج کر فوج میں بغاوت کرانے کی کوشش کی ۔ 

شہباز گل اگلے دن گرفتار ہوگیا ، ریلیف کے عادی یوتھیے یہ امید لگا کر بیٹھ کر گئے کہ رات کے وقت کوئی بڑی عدالت کھلے گی اور فوری رہائی کا حکم جاری ہوجائے گا ۔ پی ٹی آئی اور اس کے حامی حدود میں رہتے تو شاید ایسا ہی ہوتا مگر ان کی حد سے زیادہ شرپسندیوں کے سبب فضا بدل چکی تھی ۔ شہباز گل نے تھانے پہنچتے ہی بتا دیا کہ جو کچھ کہا عمران خان کے کہنے پر کہا ۔ اس گھناؤنی سازش میں کچھ صحافی بھی ملوث ہیں جو ماضی میں آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی کے بل پر خوب ‘‘ رنگ ‘‘ جماتے رہے ۔ اب یہ سب بھی چھپتے پھر رہے ہیں ۔ پی ٹی آئی پر ملک کے اندر تو ڈھنگ سے ایک مقدمہ چلانے کی بھی اجازت نہیں ملی ۔لیکن اب باہر سے خطرات منڈلانا شروع ہوگئے ہیں ۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ پوری دنیا میں پڑھی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح کی تقریبات منعقد کرکے مشکوک شخصیات سے لاکھوں ڈالر خیرات کے نام پر لیے گئے اور پھر وہ پی ٹی آئی کے لیے استعمال کیے گئے ۔ تازہ ترین خبریں یہ ہیں کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے شوکت خانم میموریل ہسپتال اور نمل کو ملنے والی رقوم کے بارے میں تحقیقات شروع کردی ہیں ۔ دھماکہ خیز خبر یہ بھی ہے کہ انٹرنیشنل ٹھگ عارف نقوی نے ایک ویڈیو بیان ریکارڈ کرادیا ہے جس میںاعتراف کیا گیا ہے کہ عمران خان کو غیر قانونی طور پر رقوم فراہم کی گئیں ۔ پاکستان کے باخبر حلقوں کو پہلے ہی تمام باتوں کا علم ہے ۔ سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن بتا چکے ہیں کہ فلاحی منصوبوں کے نام پر منی لانڈرنگ کی جاتی رہی ۔ آنے والے دنوں میںاس حوالے سے امریکہ اور برطانیہ سے فیصلے سامنے آنا شروع ہوگئے تو پی ٹی آئی اور عمران کے ساتھ جو ہوگا سو ہوگا اس سے ملک کی بھی سخت بدنامی کا خدشہ ہے۔ایسا ہوا تو ہماری اسٹیبلشمنٹ بھی بری الذمہ نہیں ہوگی جس نے سب کچھ جانتے بوجھتے ملک کے اندر بروقت کاروائی نہیں ہونے دی ۔ الٹا اتنی چھوٹ دی کہ بھارت کے دفاعی تجزیہ کار میجر ر گورو آریا نے کہا عمران خان نے پاکستان میں فوج کے خلاف منافرت پھیلا کر وہ کام کر دکھایا جو بھارت 75 سالوں میں اربوں ڈالر خرچ کرکے نہیں کرسکتا تھا ۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ عمران خان اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہراتے ہیں ۔ دوسری جانب امریکی سفیر کا کے پی کے میں ریڈ کار پٹ استقبال کیا جاتا ہے ، کروڑوں ڈالر کے عطیات وصول کیے جارہے ہیں ۔ دوسروں پر مودی کا یار ہونے کا الزام لگاتے ہیں اور خود اپنی حالت یہ ہے کہ نہ صرف بھارتی شہریوں سے چندے وصول کیے بلکہ سوشل میڈیا مہم میں بھی مدد لے رہے ہیں ۔ جوائنٹ انکوائری ٹیم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق افواج  پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا مہم کو پاکستان کے ساتھ ساتھ ہندوستان اور دیگر ممالک سے بھی چلایا اور پھیلایا گیا ،اب تک  774 ٹویٹس، 237 ہینڈلز کا پتہ چلا لیا جو اس مہم میں شامل تھے ،237 میں سے 204 ہینڈلز پاکستان سے ،17 ہندوستان اور 16 دیگر ممالک سے چلائے گئے،بدلتے ہوئے حالات کے تحت اب عمران خان کا لب و لہجہ بھی ڈھیلا ہوگیا ہے ۔شہباز گل کی گرفتاری کے بعد کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان  نے کہا کہ ہمارے پاس سٹریٹ  پاور ہے ہم سارے ملک کو بند کر سکتے ہیں، لیکن ہم پر امن مظاہرے کرتے ہیں۔

انہوں نے خود کو شیخ مجیب الرحمن جیسے  لیڈر کے طور پر پیش کرتے ہوئے 1971 میں ملک ٹوٹنے کا حوالہ بھی دیا ۔ نڈھال جسم اور پریشان چہرہ بتا رہا تھا کہ اب وہ پہلے کی طرح پراعتماد نہیں ۔13 اگست کا جلسہ پریڈ گراونڈ اسلام آباد میں کرکے حکومت کے خاتمے کی ڈیڈ لائن دینا تھی ۔ اسی دوران پتہ چلا کہ تحریک لبیک پاکستان ( ٹی ایل پی ) نے فیض آباد راولپنڈی میں ریلی اور جلسے کا اعلان کردیا ہے ۔ چند گھنٹوں کے بعد ہی پی ٹی آئی کا اجلاس بلا کر 13 اگست کا جلسہ ہاکی گراونڈ لاہور میں منتقل کرنے کا اعلان کردیا گیا ۔ اچھی بات ہے کہ عمران خان کو بات سمجھ میں آنا شروع ہوگئی ہے۔ بظاہر دانشمندانہ نظر آنے والے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک تجزیہ کار نے طنز کرتے ہوئے کہا ‘‘ سکندر اعظم ‘‘ فرار ہوگیا ہے۔

مصنف کے بارے میں