سوئزرلینڈ: سورج کی توانائی سے اڑنے والا سولراسٹراٹس طیارہ کامیاب تجربہ کے بعد  پہلی مرتبہ 2018 میں لانچ کردیا جائے گا۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس  کے مطابق سورج کی توانائی سے اڑنے والا طیارہ سولر اسٹراٹس بنانے والی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ 2018 میں سولر اسٹراٹس کو لانچ کردیا جائے گا۔ طیارہ ایجاد کرنے والے پائلٹ رافیل ڈامجن کی قیادت میں ان کی ٹیم نے شمسی توانائی پر چلنے والی کشتی میں دنیا کے گرد چکر لگایا جسے 2012 میں مکمل کیا گیا جس کے بعد شمسی توانائی میں چلنے والا سولر اسٹراٹس طیارہ لانچ کیا جائے گا۔

کمپنی کے مطابق طیارے میں 2 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور طیارہ کو سطح  زمین سےتقریبا  25 ہزار فٹ بلندی پر اڑایا جاسکتا ہے ۔ اس  سولر اسٹراٹس طیارے کی خاص بات یہ ہے کہ وہ ایک مرتبہ میں 24 گھنٹے سے بھی زائد وقت تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سولراسٹراٹس کی لمبائی صرف 28 فٹ  ہے  جس میں 32 کلو واٹ کا انجن اور اس میں 20 کلوواٹ ہاور کی لیتھیم آئین بیٹری لگی ہے جسے طیارے کے دونوں پروں پر لگے 72،72 اسکوائر فٹ کے سولر سیل چارج کرتے ہیں۔