وہ گولیاں جو پاکستانی خواتین کو ضرور استعمال کرنی چاہئیں

پاکستان کے کئی مسائل میں سے بڑھتی ہوئی آبادی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

وہ گولیاں جو پاکستانی خواتین کو ضرور استعمال کرنی چاہئیں

اسلام آباد: پاکستان کے کئی مسائل میں سے بڑھتی ہوئی آبادی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ویسے تو 15ساکل سے زائد عرصے میں ابھی تک مردم شماری نہیں ہوئی لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کی آبادی 18کروڑ ہوچکی ہے۔بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے نوکری کے مواقع کم ہورہے ہیں جس کی وجہ سے منصوبہ سازاس بات پر زور دے رہے ہیں کہ خواتین کو مانع حمل اور دیگر ایسی اشیاءکااستعمال کرنا چاہیے۔ان مانع حمل گولیوں کاجہاں حمل روکنے کا فائدہ موجود ہے وہیں ان کے نقصانات بھی اپنی جگہ ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ان گولیوں میں دو طرح کے سینتھیٹک ہارمونز یعنی پروجیسٹن یا ایسٹروجن اور پروجیسٹن ہوتے ہیں۔ایسٹروجن اور پروجیسٹن خواتین کے ایام کو باقاعدہ رکھنے کے لئے ضروری ہوتے ہیںاور ان کی وجہ سے حاملہ ہونے میں بھی مدد ملتی ہے۔اگر ان کا لیول کم یا زیادہ ہوجائے تو زچگی سمیت دیگر زنانہ مسائل بڑھ جاتے ہیں۔آئیے آپ کو ان گولیوں کے فوائد اور نقصانات سے آگاہ کرتے ہیں:
1۔پاکستان میں خواتین کو سب سے زیادہ اچانک حمل کا سامنا رہتا ہے لیکن ان گولیوں کے استعمال سے حاملہ ہونے سے بچاجاسکتا ہے۔شادی شدہ خواتین کو یہ مشکل پیش رہتی ہے کہ وہ کس طرح اچانک حمل سے بچیں لیکن ان کے استعمال سے اس مشکل پر قابو پایاجاسکتا ہے۔
2۔جن خواتین کو پولی سیسٹ (ایسی بیماری جس میں خون کا اخراج نہیں رُکتا)کاسامنا رہتا ہے انہیں ڈاکٹرز ان گولیوں کا استعمال کرواتے ہیں تاکہ ایام کے مسائل ختم ہوسکیں۔
3۔ان کے استعمال کی وجہ سے خواتین کے جسم پر موجود بال کم ہوتے ہیں۔ خواتین کے جسم پر بال osteoporosisکی زیادتی کی وجہ سے ہوتے ہیںلیکن ان گولیوں کی وجہ سے یہ غیر ضروری بال کم ہونے لگتے ہیں۔
نقصانات:
پاکستان کے دیہات میں زیادہ بچے والے خاندان کو پسند کیا جاتا ہے اور اگر ان کا استعمال کیا جائے تو بچوں کی پیدائش کم ہوتی ہے اور خاندان چھوٹا رہتا ہے لہذا دور افتادہ علاقوں میں ان گولیوںسے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ان کے باقاعدہ استعمال سے ہارمونز میں تبدیلی آتی ہے اورخواتین کئی صحت کے مسائل کا شکار ہوتی ہیں جن میں جی متلانا، پیٹ میں گیس ہونا اور شوہر سے جسمانی تعلق بنانے میں دشواری آنا شامل ہیں۔
اس کی وجہ سے کچھ خواتین کو دل کے امراض کاسامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
اگر ان کا زیادہ استعمال کیا جائے تو سر کے بال بھی کم ہونے لگتے ہیں اور خواتین گنجے پن کا شکار ہوسکتی ہیں۔