افغانستان معاشی بحران سے نکلنے کیلئے پاکستان کی تجاویز پر غور کرے : آئی ایم ایف

افغانستان معاشی بحران سے نکلنے کیلئے پاکستان کی تجاویز پر غور کرے : آئی ایم ایف

واشنگٹن: عالمی مالیاتی فنڈز نے خبردار کیا ہے کہ اگر افغانستان معاشی بحران سے نکلنا چاہتا ہے کہ اسے پاکستان کی تجاویز پر غور کرتا چاہیے۔ طویل تنازعات، بیرونی امداد پرمکمل انحصار، مستقل سیاسی انتشار اور کرپشن کی وجہ سے افغانستان اقتصادی بحران سے نہیں نکل سکتا۔

افغانستان کی معیشت سے متعلق ایک اعلامیے میں آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر نے واضح کیا کہ پاکستان بھی افغانستان کی ترقی میں حائل رکاوٹوں کی جانب توجہ دلا چکا ہے جس میں کرپشن، اندورنی بغاوت، گڈ گورننس کا فقدان جیسے مسائل شامل ہیں۔آئی ایم ایف کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ زراعت میں خاطر خواہ اضافے کی وجہ سے افغانستان کا جی ڈی پی سال 2016 میں 2.4 فیصد بڑھا ہے جو 2015 میں 1.3 فیصد تھا۔رپورٹ میں امید ظاہر کی گئی کہ افغانستان کا جی ڈی پی سال 2018 میں 3 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔

سال 2002 سے افغانستان نے بین الااقوامی مالی اور سیکورٹی مدد سے اپنی معیشت کو بہتر بنایا۔ساتھ ہی آئی ایم ایف نے متنبہ بھی کیا ہے کہ افغانستان نے مائیکرو اکنامکس پالیسی کے ذریعے مالی سال اور بیرونی اثاثوں میں بہتری حاصل کی ہے اور اس کی پائیدار کے لیے افغانی حکام کو کریشن کے خاتمے اور انتظامی اداروں کو مستحکم بنانے کے لیے اپنے اخراجات کم کرنے ہوں گے۔

آئی ایم ایف نے زور دیا کہ صنعت کے فروغ کے لیے ساز گار ماحول، مالی اور افرادی قوت میں اضافہ، مالیاتی اداروں کی تعمیر اور بہتر مالیاتی خدمت تک رسائی کے لیے افغانستان کو فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔اعلامیے میں پاکستان کے موقف کی حمایت کی گئی کہ افغانستان دہشت گری سے متعلق واقعات میں پاکستان پر الزام تراشیوں کے بجائے امریکا کی امداد سے اپنی داخلی بحران کو دور کرے۔