نواز شریف یا مریم نواز تعزیت کیلئے آئیں تو ساتھ قاتلوں کی گرفتاری کی رپورٹ بھی لائیں، والد زینب

نواز شریف یا مریم نواز تعزیت کیلئے آئیں تو ساتھ قاتلوں کی گرفتاری کی رپورٹ بھی لائیں، والد زینب

قصور :  پاکستانیو کی آواز کی بازگشت چوراہوں سے ایوانوں تک پہنچ گئی مگر پنجاب پولیس دو روز گزرنے کےبعد بھی زینب کے قاتل پکڑنے میں ناکام رہی ۔زینب کے والد بھی قاتل کابےصبری سےانتظار کرنے لگے۔ زینب کے والد  نےمطالبہ کیا ہے کہ نوازشریف تعزیت کےلیے آئیں تو ساتھ قاتلوں کی گرفتاری کی رپورٹ بھی لائیں ۔


تفصیلات کے مطابق زینب کے والد محمد امین نے کہا کہ تعزیت کیلئے کسی سے کوئی انکار نہیں نوا زشریف یا مریم نواز تعزیت کے لیے آئیں ان سے ملنے سے انکار نہیں کروں گا لیکن اپنے ساتھ  قاتلوں کی گرفتاری کی رپورٹ بھی لائیں.صوبائی وزرا نے 10 سے 12 مشتبہ افراد کی گرفتاری کے ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ زینب کا قاتل سیریل کلر ہے ۔ ڈی این اے 6 کیسز میں ثابت ہوچکا ۔ادھر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب عارف نواز کو طلب کرکے حکم دیا ہے ۔چاہے پورے صوبے کی فورس لگانا پڑے ، زینب کے قاتل 36 گھنٹے میں گرفتار کیے جائیں ۔ زینب کے والد کے اعتراض کے بعد مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے کنوینر کو تبدیل کرکےآرپی او ملتان محمد ادریس کو لگا دیا گیا ہے ۔

دوسری طرف آئی جی پنجاب نے قصور مظاہرے میں فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے دوافراد کی تفتیش کادائر کار بڑھادیا۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں مزید پولیس افسرانچودھری سلطان، وقاص نذیر، رانا صدیق، عمران یاسین اور غلام عابد کو شامل کردیا۔2 دن کے احتجاج کے بعد  قصور میں زندگی معمول پر آنے لگی.دکانیں ، بازار اور بیشتر تعلیمی ادارے کھل گئے .