زینب سمیت 8 بچیوں سے زیادتی میں ایک ہی شخص کے ملوث ہونے کا انکشاف

لاہور: قصور میں 7 سالہ بچی زینب امین کے قتل کے بعد کی جانے والی تحقیقات میں تہلکہ خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ زینب اور دیگر سات بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کی واردات میں ایک ہی شخص ملوث ہے۔

آئی جی پنجاب عارف نواز خان کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے  کہنا تھا کہ زیادتی کے بعد قتل کے واقعات میں 227 کے قریب افراد کو شامل تفتیش کیا گیا اور ان میں سے 67 افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ لیے گئے لیکن کسی ایک بھی شخص کے ڈی این اے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

آئی جی پنجاب نے مزید بتایا کہ زینب اور اس سے پہلے 7 کیسز میں لیے گئے ڈی این اے سے  یہ بات واضح ہوئی ہے کہ ایک ہی شخص نے یہ گھناؤنا جرم کیا ہے۔

خیال رہے کہ 4 جنوری کو اغوا کی گئی زینب کی لاش تین روز قبل قصور کے شہباز روڈ سے ملی تھی۔ اس واقعے کے بعد مشتعل مظاہرین نے سڑکیں بلاک کر دی تھیں اور ڈی سی آفس سمیت لیگی ایم پی اے کے ڈیرے پر بھی دھاوا بولا تھا۔