دفاع پاکستان کونسل کا امریکی ترسیل پر پابندی کے لئے تحریک چلانے کا اعلان

فیصل آباد: دفاع پاکستان کونسل نے پاکستان کے راستے امریکی ترسیل پر پابندی کے لئے تحریک چلانے کا اعلان کردیا,  کونسل نے پہلے بھی نیٹو سپلائی بند  کی اب ایک بار پھر امریکی سپلائی بندکرنے کی تحریک چلائیں گے۔ دشمن قوتیں پاکستان میں فوج اور عوام کو لڑانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ پاک فوج اور عدلیہ کیخلاف بیان بازی اور گالیاں دینا انہی مذموم سازشوں کا حصہ ہے۔ ایسے لیڈروں کی ڈوریں بیرون ممالک سے ہلائی جارہی ہیں۔نواز شریف اور دیگر حکومتی ذمہ داران الزامات کی سیاست کر رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار جمعہ کوکونسل کے تحت سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین ، جید علماء کرام اور مشائخ عظام نے دفاع امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قائدین نے قرار  دیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی داعش کے درندوں کو پاک افغان بارڈر پر لاکرمنظم کر رہے ہیں۔ پاکستان میں پراکسی وار تیز   کرنے اور شہر شہر خودکش دھماکوں کی منصوبہ بندیاں کی جارہی ہیں۔ملک کے کونے کونے میں جاکر دشمن کی سازشیں بے نقاب اور وسیع تر اتحاد قائم کریں گے۔ پاکستان کا دورہ کرنے والی سلامتی کونسل کی ٹیم مقبوضہ کشمیر جائے جہاں بھارت نے ظلم و بربریت کی انتہا کر رکھی ہے۔ حافظ محمد سعید پوری قوم کے ہیرو ہیں۔

دھوبی گھاٹ گرائونڈ فیصل آبادمیں ہونیوالی کانفرنس سے دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق، پروفیسر حافظ محمد سعید، شیخ رشید احمد، حافظ عبدالرحمن مکی، پیر سید ہارون علی گیلانی،جمشید احمد دستی، خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ ودیگر نے خطاب کیا۔ کانفرنس کے دوران خطبہ جمعہ حافظ محمد سعید نے دیا۔

مولانا سمیع الحق نے اپنے خطاب میں کہاکہ عالم کفر مسلمانوں کیخلاف ایک ہو چکا ہے۔ کشمیر، فلسطین، برما اراکان میں مسلمانوں پر ظلم کیا جارہا ہے۔ مسلمانوں کی شناخت ختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس وقت کیمونزم، کیپٹل ازم اور سب مذاہب مسلمانوں کیخلاف ایک ہو چکے ہیں۔ مسلمانوں کو بھی باہم متحدہوناہو گا۔ پاکستان کے دفاع کیلئے سب مذہبی و سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں گے۔

مولانا سمیع الحق نے کہاکہ ہم دہلی اور واشنگٹن پر حملہ نہیں کرنا چاہتے ۔ مسلمان اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جب تک علماء اور مشائخ اکٹھے نہیں ہوں گے ملک امریکہ کی غلامی سے نہیں نکل سکے گا۔انہوںنے کہاکہ حکمران امریکہ کی جنگ لڑنا چھوڑ دیں۔ دفاع پاکستان کونسل کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ' ہم ملک کے دفاع کیلئے بھرپور جدوجہد جاری رکھیں گے۔

امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہاکہ ٹرمپ کہتا ہے ہم مزید بے وقوف نہیں بن سکتے تو پھر وہ افغانستان سے اپنی فوج نکالیں اور انڈیا سے بھی کہیں کہ وہ کشمیر سے فوج نکال لے۔ تیس کروڑ بھارتی مسلمانوں کو ان کے حقوق دے۔گائے ذبح کے مسئلہ پر مسلمانوں کا قتل اور ان کے مذہبی حقوق نہیں دیے جارہے ۔ اس کے بغیر برصغیر میں بھی امن نہیں ہو گا۔ امریکہ فلسطین سے متعلق بھی اپنااعلان واپس لے۔ہم چاروں صوبوں و آزادکشمیر میں بڑے پروگراموں کا انعقاد کریں گے۔ دفاع پاکستان کونسل نے نیٹو سپلائی بند کی تھی اب امریکی سپلائی بند کرنے کیلئے بھی تحریک چلائیں گے۔بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان ایجنسی افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کو میدان جنگ بنا رہے ہیں۔ پاکستان کی سرحدوں پر خطرات منڈلا رہے ہیں۔ یہ ملک محفوظ رہے گا تو عالم اسلام کے دفاع کی ذمہ داری ادا کرے گا۔ قبلہ اول کی بازیابی اور کشمیر آزاد ہو کر رہے گا۔ دشمن کو یہاں سے نکلنا پڑے گا۔

انہوں نے کہاکہ نواز شریف اور دیگر حکومتی ذمہ داران الزامات کی سیاست کررہے ہیں۔ ہم یہ سیاست نہیں کرتے ۔ صلیبی و یہودی پاکستان میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔ ملک کا دفا ع کرنیو الوں کیخلاف عوام کو کھڑاکرنے کیلئے ایسے غلیظ قسم کے بیانات دیے جاتے ہیں۔ ہم صاف طور پر کہتے ہیں کہ سازشوں سے باز آئو اوراس ملک کی جان چھوڑ و پاکستان کو ترقی کرنے دو۔ کشمیر کی آزادی اور انڈیا کی جارحیت ختم ہونے دو۔

انہوں نے کہاکہ اس وقت فوج اور عدلیہ کو وہ گالیاں دے رہا ہے جو تین مرتبہ وزیر اعظم بن چکا ہے اور آئندہ بھی بننے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ پاکستان کو عدم استحکام سے ووچار کرنے اور اس کی ایٹمی صلاحیت کیخلاف سازشیں کرنے والے ہی یہ سب کچھ کروا رہے ہیں۔ ہم ان شاء اللہ پاکستان میں وسیع تر اتحاد قائم کریں گے۔ ہم اللہ کا فضل سمجھتے ہیں کہ قوم ہمارے ساتھ ہے۔

حافظ محمد سعید نے کہاکہ بیرونی قوتیں فوج اور عوام کو لڑانے کی کوششیں کررہی ہیں۔ ایسے لیڈر کھڑے کئے جارہے ہیں ۔ ان کے پیچھے کون ہے اور کیا وعدے ہوئے ہیں ہمیں سب معلوم ہے۔ تمہیں ڈان لیکس یاد ہے اور وہ وعدے یاد نہیں ہیں جو تم نے اللہ کے دشمنوں سے کئے تھے۔ ہمیں وہ سب کچھ یاد ہے ۔ یہ وقت معمول کا نہیں جنگی حالات کا ہے۔ پاکستان پر خوفناک جنگ مسلط ہے۔

انہوں نے کہا  کہ شام سے امریکہ نے افغانستان اور پاکستان کے بارڈر پر داعش کے درندوں کو لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ انڈیا اور امریکہ سارے منصوبہ کی نگرانی کر رہے ہیں۔ پاکستان کیخلاف یہ سب ایک ہیں ۔ہمارے شہروں میں پراکسی وار مسلط کرنے اور خودکش دھماکوں کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ مجھے اس لئے نظربند کیاجاتا ہے کہ میں لوگوں کو یہ باتیں سنا نہ سکوں لیکن ہم دشمن کی سازشیں بے نقاب کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا  کہ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا ۔ اسے چھڑانے کیلئے آخری حد تک جائیں گے۔ امریکی صدر ٹرمپ کہتا ہے کہ بیت المقدس میں سفارتخانہ منتقل کریں گے۔ہم مسلمان ہیں ،قبلہ اول سے کلمہ کا رشتہ ہے،ہر قربانی دیں گے مگر سفارتخانہ منتقل نہیں کرنے دیں گے۔اسرائیل کا دارالحکومت بیت المقدس میں نہیں بن سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے پروانوں کو الیکشن میں اکٹھا ہونا پڑے گا۔مودی کا جو یار ہے وہ غدار ہے،مودی کے یار کا نام کھل کر لینا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم اب حافظ محمد سعید کی طرف دیکھ رہی ہے کسی خارجہ پالیسی کی طرف نہیں دیکھ رہی۔ان لوگوں کی خدمات ہیں اگر یہ کسی اور ملک میں ہوتے تو قوم ان کے قدم چومتی۔جتنا بڑا مجاہد حافظ محمد سعید ہے اتنا بڑا ڈاکو نواز شریف ہے۔

پاکستان علماء کونسل کے چیئر مین مولانا زاہد محمود قاسمی،جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا محمد زبیر الباری، جمعیت علماء اسلام (س) کے رہنما مولانا محمد یوسف شاہ ، تحریک انصاف کے ضلعی صدرچوہدری علی اختر ،مولانا محمد یوسف انور،اہلحدیث اتحاد کونسل کے رہنما مولانا محمد حنیف بھٹی ،جماعت اسلامی پنجاب کے نائب امیر سردار ظفر حسین خان ،مولانا محمد عبدالرزاق،ڈاکٹر جاوید اقبال،فیاض احمد،سید عبدالوحید شاہ،مولانا ضیا مدنی،پیر جاوید اختر قادری نے کہا کہ جب تک ہم اسلام آباد کے حکمران نہیں بدلیں گے مسائل حل نہیں ہوں گے۔بیت المقدس کی آزادی اور کشمیر کو بھارت سے آزادکروانے کے لئے متحد ہیں،فرقہ واریت کا خاتمہ کریں گے۔کلمہ طیبہ کی بنیاد پر ایک ہوں گے تو اللہ کی مدد آئے گی اور قوم پھر مایوس نہیں کرے گی۔