نصاب میں خواتین کو جنسی حراساں کرنے کے حوالے سے مضمون ہونے چاہئیں: مریم اورنگزیب


اسلام آباد : وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ خواتین کو جنسی حراساں کرنے کا مضمون آج تک کسی بھی صوبے کے نصاب میں شامل نہیں ہے، ہم اس میں دین اور مذہب کو لے کر آتے ہیں، ہمارے نصاب میں مغربیت ہے مگر یہ قوانین موجود نہیں ہیں۔


قومی اسمبلی میں وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہاکہ اس واقعے کی ایک ماں ہونے کی حیثیت سے مذمت کرتی ہوں، یہ ایسا واقعہ ہے جس ملک کا ہر شہری اور ایوان کے تمام ممبران شرمندہ ہیں، پاکستان میں آج ہر آنکھ اشکبار ہے، دوسرے ممالک میں واقعات ہوتے ہیں مگر مجھے اس بات سے غرض ہے کہ پاکستان میں یہ واقعہ کیوں ہوا، پورے ملک میں ایسے واقعات ہوتے ہیں، خواتین کو جنسی حراساں کرنے کا مضمون آج تک کسی بھی صوبے کے نصاب میں شامل نہیں ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس میں دین اور مذہب کو لے کر آتے ہیں، ہمارے نصاب میں مغربیت ہے مگر یہ قوانین موجود نہیں ہیں، مساجد سے حقوق العباد کے حوالے سے بات ہونی چاہیے، علماء بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں، وہ بات کی جائے، عملی طریقہ اپنایا جائے کہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں، والدین رپورٹ درج کرائے جاتے ہیں تو انہیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہمیں یہ دیکھنا ہو گا، ایسے درندوں کو ایسی سزا ملے ان کو کسی بیھ قسم کی رعایت نہیں دینی چاہیے، انفرادی ذمہ داری بھی ہمیں ادا کرنی ہو گی، تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے منشور میں خواتین کو حراساں کرن کے حوالے سے شامل کیا جانا چاہیے۔