قصور کے معاملے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنی چاہیے : شیریں مزاری

قصور کے معاملے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنی چاہیے : شیریں مزاری

اسلام آباد : رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری نے کہا کہ یہ درست ہے کہ اس پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنی چاہیے مگر احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کی ذمہ دار حکومت ہے، ہمیں ماں باپ اور بچوں کو شعور دینا ہو گا۔نعیمہ کشور خان نے کہا کہ ایسے واقعات ہمارے منہ پر طمانچہ ہیں، لاہور میں جاوید اقبال نامی 108بچوں کے واقعے پر ایکشن لیا جائے تو یہ واقعات نہ ہوتے، ڈی آئی خان میں لڑکی کو برہنہ کر کے اسے زندہ درگور کر دیا گیا، جب ہم حدودو قوانین کی بات کرتے ہیں تو ہم پر تنقید کی جاتی ہے، ہمیں اسلامی سزاؤں کو نافذ کرنا ہو گا۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے، یہ صرف پنجاب میں نہیں ہوتے ،پاکستان کے ہر شہر میں ہوتے ہیں، ماضی میں تمام سیاسی جماعتیں اقتدار میں رہیں، مگر قانون سازی ہم نے کی، 2015کے قصور واقعات کے بعد سزاؤں میں اضافہ ہوا،سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے اجتناب کرنا چاہیے، سزاؤں پر عملدرآمد نہ ہونے کی ذمہ دار پولیس عدالتیں ہیں، لوئر عدالتیں تاریخیں ہی نہیں دیتیں، قصور واقعے پر ملزمان کو پھانسی دی جائے انسانی حقوق کی تنظیمیں اور این جی اوز کچھ بھی کہیں مگر ایسے لوگوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے، لیگل سسٹم میں سقم موجود ہیں، ایک مقدمہ دادا کرتا ہے اور بھگتا پوتا ہے، تمام سیاسی جماعتیں اور صوبائی حکومتیں ان مسائل سے دوچار ہیں

شیریں مزاری نے مزید کہا کہ یہ درست ہے کہ اس پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنی چاہیے مگر احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کی ذمہ دار حکومت ہے، ہمیں ماں باپ اور بچوں کو شعور دینا ہو گا،200بچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی اور صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ یہ زمین کا تنازعہ ہے، احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کی گئی، پی ایم ایل (ن) کی حکومت اور ترجمان کی طرف سے بار بار یہ بات آتی ہے کہ یہ ماں باپ کا قصور ہے، این جی اوز کو بلیک لسٹ کر کے ان کو تقریبات کی اجازت دی گئی ہے یہ کونسی منطق ہے، اس میں حکومتی ناکامی ہے، قرار داد کے بجائے ایکشن لیا جائے،قصور کے لوگوں اور بچی کے لواحقین کو پنجاب حکومت پر کوئی اعتماد نہیں، بہت سی قراردادیں ردی کی ٹوکری میں چلی گئیں۔