سانحہ قصور ہمارے پاکستان کی سوسائٹی پر بدنما داغ بن گیا : سراج الحق


سیالکوٹ:امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کا کہنا ہے کہ سانحہ قصور ہمارے پاکستان کی سوسائٹی پر بد نما داغ بن گیا اورزینب کی شہادت نے 20 کروڑ عوام کے ضمیروں کو جھنجھوڑا ہے اور یہ سانحہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان میں جنگل کا نظام ہے اور حکومتیں ناکام ہیں ۔


میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مزید کہا ہے کہ پاکستان میں لٹیروں کا نظام ہے جسے بدلنے کیلئے سب کو متحد ہوکر جدوجہد کرنا ہوگی ، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی رات کے اندھیرے میں 4:20 پر زینب کے گھر تعزیت پر گئے کیا وہ دن کے وقت وہاں جا نہیں سکتے تھے اور ایلیٹ اور ڈولفن فورسز بنائی گئی ہیں مگر ثابت ہوتا ہے کہ صرف حکمرانوں کی حفاظت کے لئے ہیں ۔


سراج الحق نے کہا کہ پنجاب پولیس عوام کے جان ومال کے تحفظ میں ناکام ہے اور یہاں عدالتیں بھی گونگے بہرے ہیں اور انصاف کے دروازے بند ہیں حالانکہ عدل اور انصاف کے نظام کے لئے ہمارے پاس اللہ کے نظام کے علاوہ کوئی نظام نہیں، انہوں نے مزید کہاہے کہ جس کی جیب میں پیسہ نہیں ہے ان کا خون اور جان کی کوئی قدر نہیں ہے اور ہم چوہدریوں ، وڈیروں اور جرنیلوں کی حکومتوں کو دیکھا ہر حکومت میں خاص کلاس کے وارے نیارے ہوتے ہیں غیریب کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ۔


ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم بحثیت قوم اللہ کے نظام کی جانب نہ لوٹیں گے ہمارا کوئی پرسان حال نہیں ہو سکتا ۔انہوں نے مزید کہا کہ ماڈل ٹاون سانحہ کے متعلق ہمارا موقف بالکل واضح ہے اور ماڈل ٹاون سانحہ کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچنا چاہیے ، باقی دھرنے احتجاج ہر سیاسی پارٹی کا اپنا فیصلہ ہے تاہم شرم کی بات کہ ایف آئی آر کے اندارج کے لئے لوگوں کو دھرنوں اور احتجاج پر مجبور کیا جاتا ہے ۔