بھارت نے حسن جہانگیر کے گانے ”ہوا ہوا“ کو چوری کر لیا

بھارت نے حسن جہانگیر کے گانے ”ہوا ہوا“ کو چوری کر لیا

لاہور(اے بی روف)پاکستانی گانوں کی چوری ہمیشہ سے بالی ووڈ کا وطیرہ رہا ہے ، اپنی اسی روش کو برقرار رکھتے ہوئے بھارتی فلم انڈسٹری نے اس بار ایک بہت مشہور پاکستانی گانے پر ہاتھ صاف کیا ہے-ہوا ہوا خوشبو لٹا دے حسن جہانگیر کا یہ گانا 1980کی دہائی کا  مقبول ترین گا نا تھا ،جس کی صرف  ڈیڑھ کروڑ کاپیاں ہندوستان میں فروخت ہوئی تھیں۔بھارت کی فلم انڈسڑی بالی ووڈ نے اب اس مشہور و معروف گانے کی شاعری بلکہ اس کی ٹیون بھی چوری کر لی ہے۔


ارجن کپور کی نئی آنے والی فلم ”مبارکاں“ میں ہوا ہوا کی شاعری اور میوزک ٹیون کو شامل کیا گیا ہے اس فلم کے میوزک ڈائریکٹر امال ملک ہیں جبکہ  علینا ڈی کروز ارجن کپور کے ساتھ ہیروئین کے طور پر آرہی ہیں،اس فلم کو 28جولائی کو ریلیز کیا جائے گا۔

بالی ووڈ نے حسن جہانگیر کے گانے کی شاعری کو بدل کر اس طرح بنا لیا ہے۔ ہوا ہوا مجھ کو اڑا لے،آ جا آجا تو میرے دل کو چورا لے عشق والے کارڈ پے نام میر ا لکھا لے،بیچ میں ہی فسی ہے،بات آگے بڑھا لے ،بوائے فرینڈ بنا لے،کسی اور کو پٹا ہے

جبکہ اصل گانے کے بول یہ ہیں۔ہواہوا اے ہوا خوشبو لٹا دے، کہاں کلی ہاں کلی،زلف بتا دے۔۔اب اسکا بتا دے ،ذرا مجھ کو بتا دے-میں اسکو ملو گا،اک بار ملا دے،یار ملا دے،دلدار ملا دے،یار ملا دے دلدار ملا دے

پھر کسی کے چہرے کا رنگ کھل گیا،بچھڑا ہوا آج کوئی اسکو مل گیا،کیسے مل گیا،کہاں مل گیا۔ہم نے تو ڈھونڈ لیا سارا زمانہ۔

پاکستان گانوں کو چوری کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی بالی وڈ متعدد پاکستانی گانوں کی شاعری اور میوزک کو چوری کر چکا ہے اور یہ سب بھارتی فلم ساز ہٹ دھرمی سے کرتے ہیں۔۔بھارتی فلم زہر میں ”اگر تم مل جاو تو زمانہ چھوڑ دیں گئے جو کہ پاکستانی گلوکارہ تصور خانم نے فلم ایمان دار کے گا یا تھا“ اس کے علاوہ پاکستانی فلم نذرانہ میں اپنے خدا سے مانگ لی میں نے تیری وفا صنم“ جو کہ بھارتی فلم ”بڑے دل والا“ بانٹ رہا تھا جب خدا ساری جہاں کی نعمتیں“ کی شکل میں فلم میں شامل کیا

ایک اور پاکستانی نغمہ جو فلم ”سہیلی کے لیے گایا گیا تھا”ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے“ بھارت فلمسازوں میں ”سوتن کی بیٹی میں یہ گانا کچھ کااس طرح استعمال کیا”کیا کیا ہوا دل کے ساتھ ،مگر تیرا پیار نہیں بھولے“

پاکستانی میوزک ڈائریکٹر ایم اشرف کی فلم ”شمع کو جو کہ 1974 میں ریلز کی گئی تھی اس کا گانا”کسی مہربان نے آکر میری زندگی سجا دی“ اس گانے کو بھارتی فلم ”کل کی آواز“ کو 1992میں ریلیز کی گئی تھی اس میں پاکستان گانے کو بغیر کسی تبدیلی کے شامل کیا گیا تھا۔ایم اشرف کی دوسری فلم جس کا نام”خوشبو“ کا یہ گانا تو ہر زبان میں رہا ہے”میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے“ جبکہ نقل چور بھارتیوں نے اس گانے کو اپنی فلم”پولیس پبلک “ میں استعمال کیا ”میں جس دن بھولا دوں تیرا پیار زندگی ،یہ آنکھیں ہوجائیں اندھی جو تیرے سوا دیکھیں سپنا کسی کا۔۔

بھارت میں پاکستانی گانوں کا چربہ تیار کرنا بھارتی فلم سازوں کا پرانا کام ہے فلم بجرنگی بھائی جان امجد صابری کی مشہور قوالی”بھر دو جولی میری یا محمدﷺ کو شامل کیاجس کو سابق پاکستانی فنکار عدنان سمیع نے گا یا۔

مرحوم امجد صابری کو اس بات کاشدید رنج تھا کہ کم ازکم اجازت تو لے لیے۔مگر کیا کریں ان چربہ سازوں کا جن کو صرف نقل کرنا آتا۔یہ ہم نے صرف چند گانے آپکی خدمت میں پیش کئے ہیں ورنہ یہ ایک نہیں بلکہ درجنوں پاکستانی گانے بھارتی فلموں میں شامل ہوچکے ہیں۔