وزیراعظم مستعفیٰ نہ ہونے کی ضد چھوڑ کر فی الفور استعفیٰ دے کر کسی اور کو موقع دیں، خورشید شاہ

 وزیراعظم مستعفیٰ نہ ہونے کی ضد چھوڑ کر فی الفور استعفیٰ دے کر کسی اور کو موقع دیں، خورشید شاہ

اسلام آباد:  قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم مستعفیٰ نہ ہونے کی ضد چھوڑ کر فی الفور استعفیٰ دے کر کسی اور کو موقع دیں بصورت دیگر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پیپلزپارٹی اپنے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کرے گی ۔ ہمیں صرف سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے ۔ وزیراعظم کے استعفیٰ کے بعد ن لیگ نے حمزہ شہبازکو آگے لانے کی کوشش کی تو اسے کوئی نہیں مانے گاجس سے ن لیگ کو بہت بڑا نقصان ہوگا۔ پیپلزپارٹی نے چوہدری نثار کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے نہ اس سلسلے میں وزیراعظم کو کوئی خفیہ پیغام بھیجا ہے ۔ شہبازشریف اور مریم نوازکا سیاسی مستقبل ختم ہوچکا ہے.


ایک انٹرویو میں اپوز یشن لیڈر نے کہا کہ سلطنت شریفیہ خود مسائل کا شکار ہوئی ہے جے آئی ٹی نے اپناکام بہترین انداز میں کیا ہے ۔ حکومت نے جھوٹے ثبوت فراہم کئے ۔ جس سے حکومت کی بدنیتی سامنے آگئی ہے ۔ انہوں نے خود ایسے ایسے سوالات اٹھائے ہیں جس سے جے آئی ٹی کو بڑی آسانی سے ان تک پہنچنے میں دیر نہیں لگی اگر اسحاق ڈار ان کو بچانے جاتا ہے تو اس کے اپنے بچنے کے جوذرا سے امکانات ہیں وہ بھی نہیں رہیں گے اس لیے انہوں نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں اپنے آپ کو کلیئر کرنے کی ناکام کوشش کی ہے اگر چوہدری نثار کا ماضی دیکھا جائے تو 2014سے لے کر موجودہ صورتحال تک جب بھی مسلم لیگ پر کوئی بحران آیا ہے چوہدری نثار کبھی نظر نہیں آئے صرف اسحاق ڈار کی پیشی پر ان کی گاڑی چلا کر آئے تھے ۔وہ کبھی بھی نوزشریف ، مریم نوازیا کسی دوسرے کے ساتھ نہیں آئے ۔

ا نہوں نے کہا کہ چوہدری نثار کو منصب سے ہٹانے کی پیپلزپارٹی کی کوئی شرط نہیں ہے ۔ ہمارا اس قسم کا کوئی پیغام ہے نہ سوچ ہے اور نہ ہی پیپلزپارٹی اس قسم کا کوئی مطالبہ کرسکتی ہے ۔ یہ بہت گھٹیا مطالبہ ہوگا اس سارے پس منظر میں اگر کسی پر الزام نہیں آرہا تو وہ چوہدری نثار ہے تو کیا پیپلزپارٹی ان کے ہٹانے کا مطالبہ کرے گی ۔ یہ خام خیالی ہے اور سوچوں کی پیداوار ہے پیپلزپارٹی کا یہ مطالبہ کرنا ایسا ہی ہے کہ آبیل مجھے مار ہم نے چوہدری نثار کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے نہ ہی وزیراعظم کو کوئی خفیہ پیغام بھیجا ہے ۔ خورشید شاہ نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ وزیراعظم کے مستعفی ہونے کے بعد ن لیگ اپنے سینئر اعتمادیوں کو چھوڑ کر حمزہ شہبازکو وزیراعظم بنائیں گے ۔ اگر ایسا ہوا تو پھر یہ پارٹی تو نہ ہوئی سلطنت شریفیہ ہوگی ۔ یہ بات کوئی نہیں مانے گااس سے ن لیگ کو بڑا نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ جمہوریت کی حمایت کی ہے یہی بہترین نظام ہے اس میں جب ہم آتے ہیں تو غلطیاں کرتے ہیں اور اس کا نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے مجھے یقین ہے کہ وزیراعظم مستعفیٰ ہوجائیں گے اور نئے وزیراعظم آئیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف غلطی  پر غلطی کررہے ہیں ۔ اقتدار کا گھوڑا اندھا ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ مریم نوازشریف کا سیاسی مستقبل ختم ہوچکا ہے ۔ شہبازشریف کی بھی سیاست ختم ہوچکی ہے جے آئی ٹی نے اپنا کام بہترین انداز میں کیا ہے حکومت نے جھوٹے ثبوت فراہم کئے ۔ حکومت کی بدنیتی ثابت ہوچکی ہے ۔ اگر ہم احتساب کرتے تو انتقام کا شور مچایا جاتا ہم سسٹم کو چلانا چاہتے ہیں ۔ چیئرمین نیب سے مایوسی ہوئی ۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں.