حکومت ناکام ہو چکی ، اب بات ہٹانے کی ہے، شاہد خاقان عباسی

حکومت ناکام ہو چکی ، اب بات ہٹانے کی ہے، شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد :پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت ناکام ہو چکی ہے اور اب بات تو حکومت کو ہٹانے کی ہے، ایک حکومت ناکام ہو گئی ہے اور امید کی کوئی کرن نہیں کہ وہ حالات کو بہتر کر لیں گے تو پھر اس میں ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ حکومت گھر جائے اور عوام کو ایک نئے فیصلے کا موقع ملے۔


اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی بلانے کا مقصد یہ ہے کہ حکومت کے گھر جانے کا کیا راستہ ہو گا کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں انتشار ہو جائے، 1977میں لوگ سڑکوں پر آئے تھے جس کے بعد ہم نے10سالہ آمریت کا دوردیکھا اور ہم نہیں چاہتے کہ وہ حالات دوبارہ پیدا ہوں۔  میاں محمد نواز شریف علاج کی غرض سے برطانیہ میں ہیں اور کوروناوائرس کی وجہ سے پوری دنیا میں سرجریز بند ہیں اور جیسے ہی سلسلہ آگے چلے گا وہ  علاج کروا کر واپس آجائیں گے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ نواز شریف کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے انصاف ملے گا۔

(ن)لیگ کے روح رواں میاں نواز شریف ہیں، پارٹی ورکر، ووٹر اور اراکین اسمبلی ان کے ساتھ ہی اپنی شناخت کرواتے ہیں ، پارٹی میں جب بھی فیصلے ہوتے ہیں اس میں میاں نواز شریف کی مشاورت ہوتی ہے اس کے بغیر فیصلہ ممکن نہیں ہے۔ نواز شریف کی جماعت بولتی ہے اور یہ نواز شریف اور مریم نواز کی ہی آواز ہوتی ہے۔

آج  ملک کے پاس یہ چوائس ہے کہ یا حکومت رکھیں یا نیب رکھیں نیب ہو گا تو حکومت نہیں چلے گی اور یہ واضح ہو گیا ہے۔ نیب ایک آمر نے بنایا تھا اور بنیادی طور پر یہ سیاستدانوں کو کنٹرول کرنے کے لئے ہے، نیب قانون میں تبدیلی اتفاق رائے سے ہو سکتی ہے۔

  ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی ہو اس پر سب جماعتوں کا اتفاق ہے، میاں محمد  شہبازشریف کو کوروناوائرس ہونے کی وجہ سے بلاول بھٹو زرداری کی ان سے لاہور میں ملاقات نہیں ہوسکی تھی، میری رائے  اور توقع ہے کہ آئندہ ہفتے یا10دن کے اندر اے پی سی ہو گی، اس وقت اے پی سی کا انعقاد وقت کی ضرورت ہے۔

اے پی سی کا ایجنڈا ملک کے حالات پر بات کرنا، ملکی معیشت نہیں چل رہی ، حکومت نہیں چل رہی اور عوام پریشان ہیں اور عوام اپوزیشن پر نظر لگائے بیٹھے ہیں کہ یہ کچھ کریں گے، اپوزیشن کو کوئی متفقہ لائحہ عمل بنانا پڑے گا کہ کس طرح عوام کی تکالیف کو دور کیا جاسکے، میں تو یہ ہمیشہ کہتا ہوں کہ یہ حصول اقتدار کی کوشش نہیں ہے بلکہ ملک کو مسائل سے نکالنے کی کوشش ہے۔

اپوزیشن حکومت پر دبائو ڈالتی ہے، اسمبلی میں بات کرتی ہے اور متبادل پالیسی دیتی ہے  اور ہم نے یہ سب کچھ کر لیا ہے تاہم حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی اور ملک کے حالات روز بروز خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں، ایسے حالات میں آئین اور جمہوری  دائرے میں رہتے ہوئے جو بھی آپشنز ہیں ان پر بات کر کے کوئی اگلا لائحہ عمل بنانا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 1977میں ملک میں ایک نظریاتی تقسیم تھی اور ایک تحریک چل رہی تھی لیکن اب تو معاشی دبائو ہے، مہنگائی ہے، بیروزگاری ہے،کاروباری نہیں اور کوروناوائرس نے اس سورتحال کو مزید  گھمبیر بنادیا ہے،حکومت کی کوئی حکمت عملی نہیں، حکومت معاملات کو حل نہیں کر پارہی اور عوام پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے اورایسی صورت میں عین ممکن ہے کہ لوگ تنگ آکر سڑکوں پر آجائیں پھر نہ نظام محفوظ ہو گا اور نہ لوگ محفوظ ہوں گے۔

جب مہنگائی اور بیروزگاری زیادہ ہو جائے گی اور لوگ اپنا پیٹ نہیں بھر سکیں گے تو پھر لوگوں کو سڑکوں پر ہی آنا پڑتا اور مجھے اس کا خطرہ زیادہ ہے اور سیاسی قیادت کا چیلنج ہوتا ہے کہ حالات کو وہاں تک نہ پہنچنے دے اور تبدیلی کی کوشش کرے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے آئین میں  عدم اعتماد کا نظام ہے جو کہ ناممکن نظام ہے وہ ایک اظہار رائے کا طریقہ ہے لیکن عملی طور پر حکومت کو ہٹانے کا طریقہ نہیں ہے ، یہ نہ ہوا ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے کیونکہ سادہ سی بات ہے گا اور10پولیس پکڑ کر لے جائے گی اور آپ کی چھٹی ہو جائے گی اور ہمارے ساتھ یہ پہلے ہو چکا ہے۔ 

شہباز شریف کی رواں ہفتے  متوقع گرفتاری کے سوال پر شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گرفتاری ہر وقت ممکن ہے کیونکہ کوئی قانون توہے نہیں اور میں بھی ہر وقت گرفتاری دینے کے لئے تیار رہتا ہوں۔شہباز شریف کو 20تاریخ کو بلایا اور18 گو وارنٹ گرفتاری جاری کر چکے تھے اس کا کیا مقصد ہے یہ تو مکمل طور پر ایک  پولیٹیکل انجینئرنگ ہے  ، آپ نے پراسیکیوٹ کرنا ہے کریں تاہم آپ اس ملک کے اندر پرسیکیوٹ کر رہے ہیں اور ایسا چن ، چن کر کیا جارہا ہے، اس سے بڑے جرم ہیں اور وہی قانون ہے لوگ گرفتار نہیں ہوتے۔

  آپ کے پاس شواہد ہیں تو ریفرنس بنائیں اور کیس عدالت میں چلائیں اور یہی چیف جسٹس صاحب  نے بھی کہا ہے، چیف جسٹس نے کہا ہے کہ 120مزید احتساب عدالتیں بنائیں تاہم 120احتساب عدالتیں اس وقت چلیں گی جب پیچھے کوئی مواد  پراسیکیوٹ کرنے  لئے ہو گیا کیونکہ یہاں تو تنگ کرنا مقصود ہے۔ دو سال ہو گئے مجھ پر کیس  نہیں بن سکا۔ ایم ڈی پی ایس او کی تعیناتی کے کیس میں نیب نے میرے خلاف ریفرنس دائر کیا ہے اور یہ کاغذوں کا اتنا بڑا تھدا ہے کہ اتنی کتابیں میں نے زندگی میں نہیں پڑھی ہوں گی ۔