وزیراعظم عمران خان کا وفاقی کابینہ اراکین کا پروٹوکول محدود کرنے کا حکم  

PM orders to limit protocol of federal cabinet members
کیپشن: فائل فوٹو

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ اراکین کو اپنا غیر ضروری پروٹوکول محدود کرنے کا سختی سے حکم صادر کر دیا ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے یہ فیصلہ اہم شخصیات اور کابینہ اراکین کو دیئے گئے غیر معمولی پروٹوکول کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کیا ہے۔ اس کا مقصد عوام کو ان پروٹوکول سے ہونے والی تکلیف بچانا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے سختی سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اہم شخصیات اور وفاقی کابینہ کے اراکین کی بھاری سیکیورٹی ختم کرکے انھیں صرف 2 سیکیورٹی اہلکاروں پر محدود کیا جائے۔

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وزیر مملکت برائے اطلاعات ونشریات فرخ حبیب کی غیر ضروری سیکیورٹی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وزیر اعظم نے یہ حکم دیاہے۔

دوسری جانب وزیر اطلاعات فواد چودھری نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں اس بارے میں وہ قطعی نہیں جانتے کہ وزیراعظم کی جانب سے یہ نوٹس کیوں لیا گیا ہے؟ وفاقی وزرا کی سیکیورٹی اور پروٹوکول پہلے سے ہی بہت کم ہے۔

باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنرز اور وزرائے اعلیٰ کی غیر ضروری سیکیورٹی پروٹوکول پر بھی وزیراعظم نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ بات بھی علم میں آئی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے صدر ڈاکٹر عارف علوی کے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر بہت زیادہ پروٹوکول پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔

آئندہ ہفتے کابینہ اس حوالے سے ایک جامع پالیسی کی منظوری دے گی۔ ہم عوام کو مرعوب کرنے کی غرض سے جاہ و جلال کے استعمال کی اس نوآبادیاتی میراث کا خاتمہ کریں گے۔

— Imran Khan (@ImranKhanPTI) July 6, 2021

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس کا پیسہ اور عوام کو زحمت سے بچانے کیلئے میں سیکورٹی اور پروٹوکول کے ہمراہ کسی نجی تقریب میں شریک نہیں ہونگا۔

انہوں نے کہا تھا کہ وزرا اور گورنرز کی سیکیورٹی پروٹوکولز کا بھی جائزہ لے رہا ہوں جبکہ تحریک انصاف کے وزرائے اعلیٰ کو طے کرنا ہے کہ ہم کیسے اخراجات کم اور عوام کو پہنچنے والی زحمت کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے کابینہ اس حوالے سے ایک جامع پالیسی کی منظوری دے گی۔ ہم عوام کو مرعوب کرنے کی غرض سے جاہ وجلال کے استعمال کی اس نو آبادیاتی میراث کا خاتمہ کریں گے۔

میڈیا میں یہ خبریں زیر گردش ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وفاقی وزراء سے اضافی سکیورٹی واپس لینے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر کابینہ ڈویژن اور اسلام آباد پولیس نے کئی وفاقی وزراء سے اضافی سکیورٹی واپس لی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر شیریں مزاری اور پرویز خٹک سمیت سپیکر اور ڈپٹی سپیکر سے اضافی سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔

آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد اضافی سکیورٹی واپس لی گئی ہے۔

وفاقی وزراء کی سکیورٹی پر مامور 5 اہلکاروں میں سے 3 کو واپس بلا لیا گیا ہے، وفاقی وزراء کے ساتھ سکیورٹی کے لیے اب اسلام آباد پولیس کے صرف دو اہلکار موجود رہیں گے۔ چیئرمین سینیٹ کو دی گئی نفری برقرار رہے گی جبکہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کو دی گئی اضافی نفری میں بھی کمی کر دی گئی ہے۔