قیادت کا امتحان

Khalid Mahmood Faisal, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

نجانے دیار غیر میں بستر مرگ پر موجود ہمارے سابق سپہ سالار کے کیا جذبات ہوں گے، جب انھیں یہ خبر ملی ہو گی کہ سپر پاور کی فوج رات کی تاریکی میں بگرام ائیر پورٹ سے دُم دبا کر بھاگ نکلی ہے،ڈر اور خوف کا یہ عالم کہ کسی کو کانوں کان خبر ہی نہ ہوئی، افغان سیکورٹی فورسز جو اس عمارت کی نگرانی پر معمور تھیں وہ بھی اِنکی نقل وحمل سے اس لئے بے خبررہیں کہ حفظ ما تقدم بتیاں گُل کر دی گئیں، فضائی اڈہ کے نئے کمانڈر کو بھی اِس بزدلی سے لا علم رکھا گیا تھا،وہ شکوہ کناں تھے کہ ایک ہی رات میں بیس سال کا تعلق ختم کر دیا گیا،یہ بدنام زمانہ ائیر پورٹ افغانستان کا گوانتا نامو کہلاتا تھا،اسکی حفاظت کے لئے اگرچہ کچھ امریکی فوجی موجود رہیں گے لیکن غالب اکثریت بے آبرو ہو کر رخصت ہو چکی ہے۔ویت نام کے بعد یہ اَنکل سام کی دوسری بڑی عالمی تذلیل ہے،انسانی جانوں کے علاوہ بلین ڈالر کا خرچ کسی کرب سے کم نہ تھا،اس عبرت ناک شکست نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ جذبوں کا صادق ہو نا بھی ضروری ہے۔

ہمارے سابق سپہ سالار اِسی سپر طاقت کے سامنے ایک کال کے نتیجہ میں ڈھیر ہو گئے، اس کی حمایت میں اتناآگے چلے گئے کہ ملک کی سالمیت اور خود مختاری تک داؤ پر لگا دی، پرائی جنگ کو سرحد میں داخل کر کے اس ریاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی جو حماقت انہوں نے کی اس کی بھاری قیمت اس قوم کے عسکری جوانوں کو ادا کرنا پڑی ہے، نجانے یہ سلسلہ کب تلک جاری رہتا ہے۔

اس وقت قومی قیادت کا یہ اعتراف کہ غیر کی جنگ میں کود کر غلط فیصلہ کیاگیا، ُزود پشیمان کا پشیمان ہونے کے مترادف ہے، اس وقت بھی کچھ محب وطن حلقے اس پالیسی کے بڑے ناقد تھے، اُس وقت جماعت اسلامی کے اَمیر سید منور حسن مرحوم نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے گو امریکہ گو کی تحریک کا آغاز کیا تھا، آج مقتدر طبقات اِسی بات کے حامی نکلے کہ خطہ میں مسائل کی بڑی وجہ غیر ملکی افواج کا وجود ہے بھاری بھر جانی اور مالی نقصان اٹھانے، محب وطن قبائل کو اپنے مخالف لا کھڑا کرنے کے بعد اب سانپ کی لکیر پیٹنے سے کیا حاصل ہو گا۔

یہ کریڈٹ تو افغانوں کو جاتا ہے کہ انہوں نے نہتے ہو کر بھی اَپنا سر عالمی طاقت کے سامنے سرنگوں نہیں کیا بلکہ سازوں سامان چھوڑ کر اسے بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے، میڈیا کی آنکھ سے جب امریکی عوام یہ دیکھے گی کہ اس کے بھاری بھر ٹیکسوں سے خرید کی گئی دفاعی گاڑیوں کوعام افغان شہری پبلک ٹرانسپورٹ کے طور پر استعمال کر رہا ہے نیز ان کے بہادر فوجی چوروں کی طرح رات کے اندھیرے میں سامان بگرام ائیر پورٹ پر چھوڑکر بھاگ پڑے تو ان کے دل پر کیا گزرے گی؟

سب سے مظلوم تو کابل انتظامیہ ہے جس کو بھی مطلع کر نے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی گئی، اس فعل سے نا صرف یہ خود یتیم ہو گئے بلکہ افغان سکیورٹی فورسز کو بھی بے آسرا ہو نا پڑا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ سوویت یونین نے نجیب اللہ اور افغان فورسز کو اپنی شکست کے بعد جب چھوڑا تھا تو وہ موجودہ افغان سیکورٹی فورسز سے زیادہ مضبوط تھی، اسکا فضائی بیڑا زیادہ وسیع تھا، البتہ موجودہ افغانی صدر نجیب کے مقابلہ میں بہتر پوزیشن میں ہیں۔

ماسکوکا سرکاری دورہ کرنے والے طالبانی وفد کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ دو ہفتوں میں افغانستان کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں،اس سے قبل طالبان کے وفد نے تہران کی دعوت پر ایران کا دورہ بھی کیا تھا، یہ اس بات کی علامت ہے کہ طالبان بدلتے ہوئے حالات کی بابت اپنی صف بندی کر رہے ہیں،انہیں روس اور چین کی حمایت بھی مل رہی ہے،مذکورہ ممالک نیا علاقائی نظام لانے میں مصروف ہیں،چین کا ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ جسکا چھوٹاحصہ افغانستان کی شمولیت کے بغیر نامکمل رہے گا، علاقائی استحکام کے لئے بیجنگ اور روس شنگھائی تعاون برائے ترقی پلیٹ فارم سے افغانستان میں نئے کردار کی تیاری میں مگن ہیں۔اگر چین افغانستان میں اپنا کردار یکسوئی کے ساتھ ادا کرتا ہے تو بھارت کابل سے باہر ہو جائے گا۔البتہ طالبان کو یہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ اگر اس نے کابل ائر پورٹ پر قبضہ کی دانستہ کاوش کی تو اس سے سفارتی مشن کا عمل رک جائے گا،جس کے نتیجہ میں سب سے زیادہ وہ طبقہ متاثر ہو گا جو بیرون ملک ہے کیونکہ آسٹریلیا نے عارضی طور پراپنا سفارت خانہ بند کر نے کا اعلان کر دیا ہے۔

طالبان کو اللہ تعالیٰ نے انسانی خدمت کا ایک اور نادرر موقع فراہم کیا ہے اب اِنکے کاندھوں پر یہ ذمہ داری آن پڑی ہے کہ وہ اپنی سیاسی قوت کو عوامی خدمت کے لئے استعمال کر کے عوام کے دلوں پر راج کرنے کی طرح ڈالیں، عالمی طاقت اور دیگر ممالک کے ساتھ مذاکرات میں جس طرح انہوں نے بالغ نظری کا مظاہرہ کیا اوربدیشی فوج کو پر امن انخلا کا موقع فراہم کیا ہے، اسی طرح پر امن افغانستان سب کا خواب ہے۔

 افغانستان کی ریاست پر تمام سٹیک ہولڈرز کا حق ہے لہٰذا طالبان قیادت کو وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، اس ملک کی عوام کے لئے جو موزوں ہے اس پر کھلے دل سے مشاورت کر تے ہوئے ایسے اقدامات اٹھانا ہوں گے، جنہیں عوامی سطح پر شرف قبولیت حاصل ہو، اور وہ تمام سیاسی قوتیں جو ماضی میں جہاد افغانستان میں کلیدی کردار ادا کر چکی ہیں، انھیں بھی سیاسی عمل میں شریک کر کے داخلی اور خارجی پالیسیاں مرتب کرنا ہوں گی، اس گلوبل ولیج میں وہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر عوام پر حکمرانی نہیں کر سکتے۔شریعت کے نفاذ سے قبل انہیں تمام مکاتب فکر، اہل دانش، اور یو نیورسٹی اساتذہ سے بھی مشاورت کر نا ہوگی،گرینڈ جرگہ کے ذریعہ وہ شرعی احکامات کے لئے انہیں آئین کا سہارا لینا ہو گا۔

 لاک لینڈ ریاست کو اپنے ہمسایہ ملکوں پر لازماً انحصار کرنا ہے، اور پھر سی پیک کی صورت میں ایک بڑا اقتصادی منصوبہ ان کے لئے خوشحالی کا پیغام لا سکتا ہے، اس سے مستفید ہو نے کیلئے انہیں اپنی افرادی قوت کوکسی فن سے آراستہ کر نا ہوگا،میڈیا میں طالبان کے خوف سے خواتین کیلئے ٹوپی نما برقعوں کی ڈیمانڈ بڑھنے اور مردوں کو داڑھی بڑھانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں، سب سے زیادہ اہم عمل لا تعدادبیوگان کی کفالت اور قومی معاشی ترقی ہے،قوم کے وسیع تر مفاد میں سیاسی مخالفین سے ہاتھ ملا کر ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر نے میں وہ کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ انکی بڑی سیاسی کامیابی ہوگی۔

امت مسلمہ درد دل رکھنے والی قیادت سے محروم ہے،اس خلا کو پر کرنے کے لئے ترکی، پاکستان، ملائیشیا، قطر سے مل کر ایسا اہتمام کر نا ہے کہ آئندہ طاقت ور ملک کو کسی اِسلامی ملک پر جارحیت کی جرأت نہ ہو، ایران کے ساتھ طالبان وفد کی ملاقات بڑا بریک تھرو ہے، طالبان اپنی پالیسی سے ہمسایہ برادر ممالک کے ساتھ ساتھ اسلامی برادری کو بھی کسی بڑی مشکل میں نہ ڈالیں، یہی اس قیادت کا امتحان ہے۔