نئے، مہذب افغان طالبان بندوق کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیں گے: شیخ رشید

Naibaat, Civilized Afghan Taliban, Sheikh Rasheed

راولپنڈی: وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حالیہ دہائیوں میں افغانستان میں تشدد، خانہ جنگی اور غیر ملکی افواج کے بار بار حملوں کا سامنا کرنے کے بعد ’نئے، مہذب افغان طالبان‘ بندوق کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیں گے۔

نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق آزاد جموں و کشمیر انتخابی مہم کے دوران صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ اسلام آباد، افغانستان میں عوامی حمایت کی حامل حکومت کو قبول کرے گا، افغانستان میں تمام سٹیک ہولڈرز کو سیاسی تصفیہ کیلئے سامنے آنا چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ملک خانہ جنگی کا شکار نہ ہو۔ 

ان کا کہنا تھا کہ طالبان کیساتھ بات چیت سب کے مفاد میں ہو گی اور ہم ہمسایہ ملک افغانستان میں امن کی حمایت کریں گے، افغان رہنماءاشرف غنی، عبد اللہ عبد اللہ، حامد کرزئی، ملا برادر، استاد عطا محمد نور اور تمام سٹیک ہولڈرز کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، اگر چین ایران میں 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے تو افغانستان میں امن کے بغیر یہ ممکن نہیں ہو گا، ہم جس ٹرین کو ازبکستان لانا چاہتے ہیں وہ افغانستان میں استحکام کے بغیر ممکن نہیں ہے جبکہ اپنے سٹریٹجک مقام کی وجہ سے کوئی بھی سپر پاور پاکستان کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ 

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ بھارت افغانستان میں دہشت گردی کی سرگرمیاں کررہا ہے اور گزشتہ 40 برس میں پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ پھیلانے میں ملوث رہا ہے تاہم بھارت کو افغانستان کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، افغان سرحد پر باڑ لگانے کے ساتھ پاکستان ماضی کی نسبت بہتر حالت میں ہے۔

آزاد و جموں کشمیر میں آئندہ انتخابات کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے اپوزیشن جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی غیر ذمہ دارانہ قیادت پر تنقید کی اور کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں عوامی جلسوں میں نامناسب اور توہین آمیز زبان استعمال کی جا رہی ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف ہر وقت وزیر اعظم عمران خان کے خلاف باتیں کرتی رہتی ہے لیکن انہوں نے صرف ٹی وی پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا، امریکہ اور برطانیہ کے حکام ان ممالک میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کے متعدد بینک اکاؤنٹس سے واقف ہیں، اپوزیشن جماعتوں نے ’پری پول دھاندلی‘ کی آواز لگائی ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں شکست سے دوچار ہو گی۔