ایک ہی وقت میں 2 مختلف اقسام کے کورونا وائرس کا شکار ہونے والی خاتون 5 دن میں انتقال کر گئی

ایک ہی وقت میں 2 مختلف اقسام کے کورونا وائرس کا شکار ہونے والی خاتون 5 دن میں انتقال کر گئی
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

برسلز: بیلجیئم میں کورونا وائرس کا انوکھا ترین کیس سامنے آیا ہے جہاں ایک خاتون بیک وقت 2 مختلف اقسام کے کورونا وائرس کا شکار ہوئی اور صرف 5 روز میں انتقال کر گئی جبکہ اس کیس نے ڈاکٹرز کو بھی حیران پریشان کر دیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق بیلجیئم کی 90 سالہ خاتون بیک وقت ’ایلفا‘ اور ’بیٹا‘ کورونا وائرس کا شکار ہوئی، ایلفا کورونا وائرس سب سے پہلے برطانیہ میں سامنے آیا تھا جبکہ ’بیٹا‘ کورونا وائرس سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں سامنے آیا۔ 90 سالہ خاتون کو آلسٹ نامی شہر کے ایک ہسپتال میں مارچ 2021 میں داخل کرایا گیا جہاں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ خاتون کی کوویڈ ویکسی نیشن نہیں ہوئی تھی اور بیماری کے آغاز میں جسم میں آکسیجن کی سطح بھی اچھی تھی مگر پھر بہت تیزی سے حالت خراب ہوئی اور صرف 5 دن بعد اس کا انتقال ہوگیا، طبی معائنے سے محققین نے دریافت کیا کہ خاتون بیک وقت کورونا وائرس کی 2 اقسام ایلفا اوربیٹا سے متاثر تھی۔ 

آلسٹ میں واقعہ کے او ایل وی ہسپتال کی مالیکیولر بائیولوجسٹ اینی وینکر برجن نے بتایا کہ بیلجیئم میں اس وقت کورونا کی یہ دونوں اقسام گردش کررہی تھیں تو قوی امکان یہ ہے کہ وہ 2 مختلف افراد سے 2 مختلف اقسام سے متاثر ہوئیں مگر بدقسمتی سے ہم یہ نہیں جانتے کہ یہ خاتون کس طرح کوویڈ کا شکار ہوئیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ یہ بتانا بھی مشکل ہے کہ 2 اقسام سے بیمار ہونے کے نتیجے میں مریضہ کی حالت اتنی تیزی سے خراب ہوئی جبکہ اس حوالے سے تحقیق ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں کی گئی بلکہ یورپین کانگریس آن مائیکروبائیولوجی اینڈ انفیکشیز ڈیزیز میں اس کے نتائج پیش کئے گئے ہیں۔ 

محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اب تک اس طرح کے 2 اقسام سے بیک وقت بیمار ہونے کے کیسز کے نتائج شائع نہیں ہوئے مگر ممکنہ طور پر اس پر زیادہ توجہ نہیں دی جارہی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کورونا کی اقسام کے حوالے سے ٹیسٹنگ کی صلاحیت محدود ہے اور اقسام کی شناخت کیلئے تیز پی سی آر ٹیسٹنگ کا طریقہ کار اختیار کرنا چاہئے۔ 

واضح رہے کہ اس سے قبل جنوری 2021ءمیں برازیل میں سائنسدانوں نے 2 افراد کے بیک وقت 2 مختلف اقسام سے متاثر ہونے کو رپورٹ کیا تھا مگر اس تحقیق کے نتائج اب تک کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے۔ دیگر طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت حیران کن نہیں کہ کوئی فرد کورونا کی ایک سے زیادہ اقسام سے متاثر ہوگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بیلجیئم کی تحقیق میں اس حوالے سے مزید تحقیقی کام کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ متعدد اقسام سے متاثر ہونا کوویڈ 19 کی بیماری پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے اور ایسا ہونے سے کیا ویکسی نیشن کی افادیت پر تو منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔