سنگین غداری کیس،التوا کی درخواست مسترد،عدالت نے مشرف کا حق دفاع ختم کردیا

سنگین غداری کیس،التوا کی درخواست مسترد،عدالت نے مشرف کا حق دفاع ختم کردیا

اسلام آباد:خصوصی عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں ملزم کی التوا کی درخواست کو مسترد کردیا۔


تفصیلات کے مطابق فیصلہ خصوصی عدالت کے رجسٹرار راﺅجبار نے پڑھ کر سنایا۔ عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل کی طرف سے کئی گئی التوا کی درخواست مسترد کردی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ملز م خرابی صحت کے باعث پیش نہیں ہو پارہا،سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل در آمد کیا جائیگا۔ملزم پیش نہیں ہوتا تو کیس ختم کرنے کی درخواست کو ناقابل سمجھتے ہیں۔

عدالت نے کہا وزارت قانون وکلا کاایک پینل بنائے جو ملزم کا عدالت میں دفاع کرے۔وزارت قانون ان وکلا کی فیس کے شیڈول کے بارے میں رپورٹ بھی پیش کرے۔ آئندہ سماعت 27 جون کو ہوگی۔قبل ازیں خصوصی عدالت میں پرویز مشرف غداری کیس کی سماعت اور عدالت نے پرویز مشرف کی التوا کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا ۔

ذرائع کے مطابق پرویز مشرف کے وکیل کی جانب سے خصوصی عدالت سے ایک اور موقع فراہم کرنے کی استدعاکی گئی، پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ مو¿کل زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں،وہ ذہنی اور جسمانی طور پر اس قابل نہیں کہ ملک واپس آ سکیں جبکہ ہر تاریخ سماعت پر کیس کے التوا کی استدعا پر شرمندگی ہوتی ہے ،ایک موقع اور دیا جائے تاکہ وہ خود عدالت میں پیش ہو سکیں،سابق صدر کا وزن تیزی سے کم ہو رہا ہے،مشرف وہیل چیئر پر ہیں، وہ چل پھر نہیں سکتے۔

جسٹس طاہرہ صفدر کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت سنگین غداری کیس کی سماعت کررہی ہے۔سلمان صفدر نے عدالت سے استدعا کی کہ پرویز مشرف کو ایک موقع اور دیا جائے تاکہ وہ خود عدالت میں پیش ہو سکیں۔مشرف کے دل کی کیموتھراپی ہو رہی ہے،اس کیموتھراپی کے بعد صحت خراب ہوتی ہے۔جسٹس طاہرہ صفدر نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر حکم جاری کررکھا ہے۔پرویز مشرف کے وکیل نے جواب دیا کہ وہ عدالتی حکم سے آگاہ ہیں۔

انسانی بنیادپر ایک اور درخواست کررہے ہیں۔استغاثہ کے وکیل ڈاکٹر طارق حسن نے پرویز مشرف کی صحت کے حوالے سے اپنے دلائل دیے جس پر جسٹس طاہرہ صفدر نے کہا کیا آپ اس (مشرف) کی جسمانی صحت کے خلاف بات کررہے ہیں؟جسٹس نذر اکبر نے استفسار کیا کہ کیاپرویز مشرف کی صحت کی تصدیق کرانا چاہتے ہیں۔

استغاثہ کے وکیل نے کہا کہ وہ ایسا نہیں چاہتے۔ عدالت نے پرویز مشرف کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے کرنے کا موقع دیا۔جسٹس شاہد کریم نے کہا دیکھنا یہ ہے کہ آج کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست منظور کی جائے یا نہ؟استغاثہ کے وکیل نے کہا کہ ہم فریق مخالف کے رویے کو اپوز کرتے ہیں۔