مردم شماری آئینی ذمے داری ہے ،مریم اورنگزیب

مردم شماری آئینی ذمے داری ہے ،مزیم اورنگزیب

مردم شماری آئینی ذمے داری ہے ،مریم اورنگزیب

اسلام آباد: اسلام آباد میں وزیر مملکت اطلاعات اور ڈی جی آئی ایس پی آرنے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا 1998 میں نوازشریف  نے مردم شماری کروائی.ملکی تاریخ میں 5 مردم شماریاں ہوئیں.


میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوقں نے کہا کہ مردم شماری آئینی ذمے داری ہے ۔1996میں نوازشریف نے ملک میں مردم شماری کرائی تھی۔مردم شماری کیلیے ساڑھے 18 بلین روپے بجٹ رکھا گیا ہے ۔مردم شماری کا پہلے مرحلہ 15 مارچ تا 15 اپریل ہوگا۔مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری پراتفاق رائے ہوا۔ انکا مزید کہنا تھا کہ مردم شماری کا عمل مارچ سے مئی تک جاری رہے گا۔

مردم شماری میں گھر گھر جاکر اعداد وشمار حاصل کیے جائیں گے۔ملک میں موجود دہری شہریت رکھنے والوں کا بھی اندراج ہوگا ۔خانہ شماری کے لیے 3دن رکھے گئے ہیں ۔خواجہ سراؤں کو بھی پہلی مرتبہ مردم شماری میں شامل کیاجارہاہے.

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مردم شماری قومی فریضہ ہے ۔مردم،خانہ شماری کےانعقادکافیصلہ مشترکہ مفادات کونسل نے کیا۔1998 میں بھی پاک فوج کے تعاون سے مردم شماری ہوئی۔1998 اور آج کے حالات مختلف ہیں۔1998 میں مردم شماری ملک بھر میں ایک ساتھ ہوئی۔مردم شماری کے لئے پاک فوج کے 2 لاکھ جوان حصہ لیں گے۔