اپوزیشن اتحاد کے صادق سنجرانی چیئرمین، سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب

اپوزیشن اتحاد کے صادق سنجرانی چیئرمین، سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب

 اسلام آباد: اپوزیشن اتحاد کے امیدوار صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ جبکہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوگئے، صادق سنجرانی 57 جبکہ سلیم مانڈوی والا نے 54 ووٹ حاصل کیے۔دونوں  نے باضابطہ اعلان کے بعد اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا۔


تفصیلات کے مطابق صدر مملکت ممنون حسین کی جانب سے مقرر کردہ پریزائیڈنگ آفیسر سردار یعقوب ناصر کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس دوران خفیہ رائے شماری کے ذریعے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب عمل میں آیا۔تمام اراکین نے خفیہ رائے شماری کے ذریعے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لئے نامزد امیدواروں کو ووٹ دیے اور ووٹنگ تقریباً پونے 6 بجے مکمل ہوئی۔پریزائیڈننگ آفیسر سرداریعقوب ناصر نے اپنا آخری ووٹ کاسٹ کیا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ شطرنج کے مہرو! تم جیتے نہیں ، تمہیں بدترین شکست ہوئی ہے، مریم نواز 

ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی چیئرمین سینیٹ کے لیے کل 103 ووٹ ڈالے گئے جو تمام درست قرار پائے جب کہ ان میں سے صادق سنجرانی نے 57 ووٹ حاصل کے اور بطور چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے ۔ ان کے مقابلے پر حکمران جماعت کے امیدوار راجا ظفر الحق نے 46 ووٹ حاصل کیے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ 3 سال تک چیئرمین سینیٹ نامزد کرنے پر آصف زرداری کا شکر گزار ہوں، رضا ربانی 

صادق سنجرانی نے حلف لینے کے بعد اپنا منصب سنبھالا اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل شروع کرایا۔سلیم مانڈوی والا نے 54 جبکہ ان کے مد مقابل امیدوار عثمان کاکڑ نے 44 ووٹ حاصل کیے جبکہ ایم کیو ایم کے اراکین نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں حصہ نہیں لیا۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان بہادرآباد گروپ کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے چیئرمین سینیٹ کے لئے صادق سنجرانی کو ووٹ دینے تاہم ڈپٹی چیئرمین کے لئے سلیم مانڈوی والا کو ووٹ نہ دینے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ سینیٹ ہال میں ہاتھا پائی، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے حمایتی لڑ پڑے

واضح رہے کہ اپوزیشن اتحاد کے صادق سنجرانی کو تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان اور بلوچستان کے آزاد سینیٹرز کی حمایت حاصل تھی۔جبکہ مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں کے نامزد امیدوار راجا ظفرالحق کو نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، مسلم لیگ فنکشنل، جماعت اسلامی اور فاٹا سے 2 آزاد ارکان کی حمایت حاصل تھی۔