یوسف رضا گیلانی کے ووٹ مسترد ہونے پر فاروق ایچ نائیک ڈٹ گئے

 یوسف رضا گیلانی کے ووٹ مسترد ہونے پر فاروق ایچ نائیک ڈٹ گئے
کیپشن:   یوصف رضا گیلانی کے ووٹ مسترد ہونے پر فاروق ایچ نائیک ڈٹ گئے سورس:   فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) میں چیئرمین کے عہدے کیلئے انتخاب میں اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کے نام کے پر مہر لگانے والے 7 ووٹ مسترد ہوئے۔

اس معاملے پر یوسف رضا گیلانی کے پولنگ ایجنٹ پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے اظہار خیال کیا اور پریذائیڈنگ آفیسر کو کہا کہ میں نے کہا تھا کمیٹی بنائیں لیکن آپ نے میری بات نہیں سنی، یہ کہیں نہیں لکھا کہ مہر کس جگہ لگائیں۔ جن ووٹوں کی بات کر رہے ہیں ان میں مہر خانے کے اندر لگی ہوئی ہے باہر نہیں۔

خیال رہے کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں حکومتی امیدوار صادق سنجرانی دوبارہ چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے ہیں، انہوں نے اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی کو شکست دی۔

چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں حکومتی امیدوار صادق سنجرانی کو 48 جبکہ اپوزیشن امیدوار یوسف رضا گیلانی نے 42 ووٹ حاصل کئے۔ خیال رہے کہ 98 سینیٹرز نے اپنا اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جبکہ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد ووٹ کاسٹ کرنے ہی نہیں آئے۔ اراکین کی جانب سے بیلٹ پیپر پر غلط مہر لگانے کی وجہ سے 7 ووٹ مسترد ہوئے۔

پریزائنڈنگ افسر نے صادق سنجرانی کی جیت کا اعلان کیا تو اپوزیشن خصوصاً پیپلز پارٹی کی جانب سے اس پر احتجاج کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما فاروق ایچ نائیک کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا کہ بلیٹ پیپر پر یہ کہیں نہیں لکھا کہ مہر کہاں لگائی جائے، امیدواروں کے نام کے اوپر مہر لگانے سے ووٹ مسترد کرنے کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے۔

حلف اٹھانے کے بعد صادق سنجرانی نے ایوان بالا میں چیئرمین کی نشست کو سنبھالا اور کہا کہ میں دوبارہ چیئرمین منتخب کرنے پر اپنے تمام اراکین، وزیراعظم عمران خان، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور خصوصاً پرویز خٹک صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں تمام سینیٹرز کو یقین دلاتا ہوں کہ میں ہاؤس کو ساتھ لے کر چلوں گا۔