وزیراعظم شہباز شریف کے نام کھلا خط

وزیراعظم شہباز شریف کے نام کھلا خط

میاں نوازشریف نے لندن میں موجودہ حکومت کو طلب کر لیا ہے اور اس اجلاس میں ظاہر ہے کہ ملک کے مستقبل کے حوالے سے پارٹی کے مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلے ہوں گے۔ یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ شائد میاں نوازشریف جلد انتخابات کے حوالے سے پارٹی کے ساتھ مشاورت کرنا چاہتے ہیں تاہم ایک بات تو طے ہے کہ یہ ایک غیر معمولی اجلاس غیر معمولی حالات میں بلایا گیا ہے۔ معاملہ گمبھیر نہ ہوتا تو وزیراعظم شہبازشریف کو لندن نہ بلایا جاتا بلکہ اپنے ہرکاروں کے ذریعے پیغام رسانی کی جاتی۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ ملک کے حالات اتنے اچھے نہیں ہیں کہ راوی چین لکھ سکے۔ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے معیشت خراب ہو رہی ہے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ ان حالات کو نہ سنبھالا گیا تو حکومت کو نقصان پہنچے لیکن اس سے زیادہ ملک خراب ہو جائے گا۔

عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد حالات تیزی سے خراب کر رہے ہیں اور عمران کی یہ بات سچ ثابت ہو رہی ہے کہ وہ حکومت سے نکل کر زیادہ خطرناک ہو جائے گا لیکن یہ سوال بھی اپنی جگہ ہے کہ اگر وہ مزید چند برس اقتدار میں رہ جاتا تو وہ کیا کچھ کر سکتا تھا۔ میں یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں کہ عمران خان خود یہ سب کچھ کر رہا ہے اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی قوت موجود ہے۔ یہ لوگ ملک کو کھائی میں دھکیلنا چاہتے ہیں کہ ان کے سارے منصوبے ملیامیٹ ہو چکے ہیں۔ اس ٹولے نے تو ایک لمبے عرصہ تک رہنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی کہ ایک دم سے سب کچھ ہو گیا۔ یہ تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ اب تو انہیں یہ خوف بھی دامن گیر ہے کہ آر ٹی ایس کون بٹھائے گا اور پولنگ اسٹیشن کے اندر حالات کو کون کنٹرول کرے گا۔

مسلم لیگ ن کے لیے پریشانی سب سے زیادہ ہے کہ حالات کو تبدیل کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو اس کا سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ ن کو ہو گا باقی سب اپنا اپنا دامن جھاڑ کر ایک طرف ہو جائیں گے۔ یہ حکومت اقتدار میں آئی تھی تو سرمایہ کاروں نے اس پر اعتماد کا اظہار کیا تھا اور اسٹاک مارکیٹ بھی اوپر گئی تھی۔ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ بھی مضبوط ہوا تھا مگر اب حالات پھر تیزی سے خراب ہو رہے ہیں۔امریکی ڈالر کی اونچی اڑان رک نہ سکی، روپے کے مقابلے میں ڈالر 190 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جبکہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بھی مندی کا رجحان دیکھا جارہا ہے۔کاروباری ہفتے کے تیسرے روز روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں ایک روپیہ اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد ڈالر نے تاریخ کی بلند ترین سطح حاصل کرلی ہے، قبل ازیں یکم اپریل کو سیاسی انتشار کے سبب ڈالر 188 روپے 25 پیسے پر پہنچا تھا۔ تیل کے زیادہ درآمدی بل اور سعودی پیکیج سے متعلق قیاس آرائیوں کی وجہ سے روپیہ دباؤ 

کا شکار ہے۔دوسری جانب فاریکس ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ سیاسی محاذ آرائی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ بن رہی ہے۔سیاسی جماعتوں کی لڑائی تک ڈالر کی اڑان جاری رہے گی۔ فاریکس ایسوسی ایشن نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ روپے پر دباؤ کم کرنے کے لیے سعودی عرب سے پاکستان کو ملنے والے پیکیج کی تفصیلات ظاہر کرے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی نئی حکومت کی مدد کے لیے 3 ارب ڈالر کے قرض کی مدت میں توسیع پر بات کرنے پر اتفاق کیا تھا۔تاہم ابھی تک ان مذاکرات سے متعلق کوئی ٹھوس تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں جس کی وجہ سے مارکیٹ دباؤ کا شکار ہے اور تحریک انصاف والے دعویٰ کر رہے ہیں کہ حکومت کو سعودی عرب سے کوئی رعایت نہیں ملی۔

شہبازشریف کو علم ہونا چاہیے کہ محض اعلانات سے معاملات حل نہیں ہوں گے اور وہ جس نرم رویے کا اظہار کر رہے ہیں اس سے ملکی حالات خراب سے خراب تو ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک محاورہ ہے کہ اُڑنا نہیں آتا تھا تو پنگا کیوں لیا تھا، پھر آپ چلنے دیتے۔

مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو گا تو عمران خان کے جلسوں میں جانے والے شرکا کی تعداد بھی اسی شرح سے بڑھتی جائے گی۔ حکومت ابھی تک مرغی کے نرخ کم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور یہی حال دوسری اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا ہے۔ مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنے کا میکنزم جب تک نہیں بنایا جائے گا یہ سب کے لیے پریشانی کا سبب بنتا رہے گا۔ شہبازشریف کو اب گلہ نہیں ہونا چاہیے کہ اوپر وہ خود ہیں اور صوبے کی عملداری ان کے فرزند کے پاس ہے اب کسی حیلے بہانے کی گنجائش نہیں ہے۔

یہ تو طے ہے کہ عمران خان نے آپ کو کام نہیں کرنے دینا۔ اس نظام کے اندر اس کے جو بھی لوگ موجود ہیں وہ بھرپور مزاحمت کریں گے اور اس کا آغاز سپیکر قومی اسمبلی کے رویے سے ہوا تھا۔ اب ایسے ہی رویے کا اظہار صدر ریاست بھی کر رہے ہیں۔ یہ بات نہیں ہے کہ انہیں آئین اور پارلیمانی روایات کا علم نہیں ہے بلکہ وہ اس نظام کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے درپے ہیں اور جب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہوں اور آپ نرمی دکھا رہے ہوں تو حالات میں خرابی کی رفتار اتنی ہی تیزی سے بڑھ جاتی ہے۔ شہبازشریف صاحب آپ کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ آپ نے ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنی ہے یا نہیں جو اس نظام کو ڈی ریل کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کے مخالف جمہوری روایات اور جمہوری رویوں کا اظہار کرنے سے انکاری ہیں تو ایسے میں یا ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیں یا پھر لڑائی کے لیے تیار ہو جائیں۔ آپ شاید ٹک ٹک کر کے میچ جیتنا چاہتے ہیں یہ میچ صرف مار دھاڑ کر کے جیتا جا سکتا ہے۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ ملک کے ریاستی اداروں کا ستیاناس کیا جا رہا ہے اور سب سے بڑھ کر فوج کو تقسیم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ کیا یہ آپ کا فرض نہیں کہ ان عناصر کے خلاف کارروائی کریں جو اس ساری صورتحال کو ہوا دے رہے ہیں۔ مجبوری میں فوج کو یہ کہنا پڑا ہے کہ ہمیں سیاست میں نہ الجھائیں۔ میاں نوازشریف بھی یقینی طور پر ان تمام معاملات پر اپنے تحفظات کا اظہار کریں گے۔ آپ کی نرمی آپ کے مخالفین کو یہ موقع دے رہی ہے کہ وہ آپ پر دباؤ کو بڑھاتا چلا جائے اور آپ کو بے دست و پا کر کے فیصلے کرا لے۔ جس طرح آپ اس نظام کو چلانے کی کوشش کر رہے ہیں اس میں آپ کو سوائے رسوائی کے کچھ نہیں ملے گا۔

افسوس آپ تو ان کے خلاف بھی ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کر سکے جن لوگوں نے آئین کو ایک مذاق بنا دیا تھا۔ ان کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوتا تو یہ آئین شکنی کا سلسلہ رک جاتا اور معاشرے میں ان لوگوں کی پذیرائی بند ہو جاتی جو انہیں ہیرو بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ وزیراعظم صاحب کمر کس لیں اور عوام کو ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ اس نظام سے کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کریں یا استعفیٰ دے کر ملک کو ان کے حوالے کر دیں۔

مصنف کے بارے میں