موجودہ حالات کا واحد حل انتخابات، پاک فوج کا سربراہ ہر طرح کے داغ سے پاک ہونا چاہئے: مریم نواز

موجودہ حالات کا واحد حل انتخابات، پاک فوج کا سربراہ ہر طرح کے داغ سے پاک ہونا چاہئے: مریم نواز

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاک فوج کے سربراہ محترم ہیں، پاکستانی فوج کا سربراہ ایسا شخص ہونا چاہیے جو ہر قسم کے داغ سے پاک ہو۔ میرے خلاف کیس کو 10 ماہ ہو گئے لیکن نیب کوئی ثبوت پیش کرنے کے بجائے کیس کو طویل کر رہا ہے۔ موجودہ حالات سے نمٹنے کا واحدحل انتخابات ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان کو جب تک ادارے سپورٹ کررہے تھے تب تک وہ سراج الدولہ تھے لیکن جیسے ہی اقتدار جاتا آیا تو کوئی میر صادق اور کوئی میر جعفر بن گیا، عمران خان اداروں کو خطرناک ہونے کی کھلی دھمکیاں دیتاہے،اداروں کونوٹس لیناچاہئے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ اگر فوج آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے کا کہتی ہے تو یہ خوش آئند بات ہے لیکن صرف ایک ہی شخص کو فوج کے آئینی دائرے میں رہنے سے تکلیف کیونکہ اسے نقل کرنے کی عادت ہے، پاک فوج کے سربراہ محترم ہیں اور پاکستانی فوج کا سربراہ ایسا شخص ہونا چاہیے جو ہر قسم کے داغ سے پاک ہو۔

مریم نواز نے کہا کہ جعلی ووٹوں سے حکومت میں آنے والے عمران خان کو ہم نے آئینی طریقے سے گھر بھیجا، حکومت جاتے ہی معلوم ہوا کہ صوبہ پنجاب عثمان بزدار نہیں بلکہ فرح گوگی بنی گالہ کی ملکہ عالیہ کے کہنے پر چلاتی تھیں، عمران خان سیاسی شہید بننا بھی چاہے تو نہیں بن سکتا کیونکہ چار سال کی کارکردگی ان کا منہ چڑا رہی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے کہا کہ عمران کی کرسی ہاتھ سے نکلنے کیساتھ ہی اگلے الیکشن میں بھی شکست نظر آ رہی ہے۔ میری پارٹی کو سوچنا چاہئے کہ عمران خان کے گناہوں کا ٹوکرا اپنے سر نہیں لینا چاہئے اور موجودہ حالات کا واحد حل انتخابات ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ میرے خلاف کیس کو 10 ماہ ہوگئے لیکن نیب کوئی ثبوت پیش کرنے کے بجائے کیس کو طویل کر رہا ہے، سابقہ دور حکومت میں نیب کہتا تھا کہ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہونی چاہیے لیکن اب نیب کے پاس کوئی جواب نہیں، کبھی انہیں کورونا ہوجاتا ہے تو کبھی کوئی مسئلہ، اصل میں ان کے پاس ثبوت نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر میرے خلاف ثبوت ہیں تو مجھے سزا دیں، نیب کے تاخیری حربوں سے میرے بطور شہری حقوق متاثر ہو رہے ہیں، اگر میرے خلاف ثبوت نہیں تو عدلیہ نیب کی اس زیادتی کا نوٹس لے اور نیب کو کٹہرے میں لایا جائے۔ 

مصنف کے بارے میں