پیزا کے درمیان تپائی کو کیوں رکھا جاتا ہے؟

جب بھی آپ گھر میں منگوائے ہوئے پیزا کے ڈبے کو کھولتے ہیں اور سب سے پہلے اس تپائی کو اٹھاتے ہیں مگر کبھی سوچا کہ آخر یہ پیزا کے درمیان کیا کر رہی ہوتی ہے؟

پیزا کے درمیان تپائی کو کیوں رکھا جاتا ہے؟

لاہور:  جب بھی آپ گھر میں منگوائے ہوئے پیزا کے ڈبے کو کھولتے ہیں اور سب سے پہلے اس تپائی کو اٹھاتے ہیں مگر کبھی سوچا کہ آخر یہ پیزا کے درمیان کیا کر رہی ہوتی ہے؟۔ اصل میں اسے پیزا سیور کا نام دیا گیا ہے جو کہ آپ کی لذیذ غذا کو تیس برسوں سے تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ عام طور پر گھر پہنچائے جانے والے پیزا سستے گتے سے بنے ڈبوں میں ہوتے ہیں جو کہ سستے اور آسانی سے ری سائیکل ایبل ہوتے ہیں مگر گتے کی پتلی تہہ آسانی سے دب سکتی ہے۔


اگر اس ڈبے کا سینٹر دب جائے تو یہ پیزا سے ملنے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں پیزا میں سے سارا پنیر نکل کر ڈبے کے اوپر چپک جاتا ہے۔1980 کی دہائی میں امریکی شہر نیو یارک کی ایک باسی کارمیلا ویٹیل نے اس مسئلے کا احساس کیا اور اس کا حل ایجاد کیا۔ انہوں نے پیزا سیور کا ڈیزائن جسے انہوں نے پیکج سیور کا نام دیا 1983 میں پیش کیا اور اس کا پیٹنٹ 1985 میں منظور کروا لیا۔ 

پیزا کی فروخت بہت زیادہ ہوتی ہے تو صرف ایک کمپنی ہی پیزا سیور بنا کر سالانہ 80 لاکھ ڈالرز تک کما لیتی ہے مگر بدقسمتی سے کارمیلا ویٹیل خود انہیں بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ 1993 میں ان کے پیٹنٹ کی مدت ختم ہو گئی اور 2005 میں کارمیلا کا انتقال ہو گیا۔ -