نواز شریف کے معاملے پر کابینہ کی اکثریت کا باہر جانے کے حق میں فیصلہ، معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان

نواز شریف کے معاملے پر کابینہ کی اکثریت کا باہر جانے کے حق میں فیصلہ، معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان
Image Source: File Photo

اسلام آباد: ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کے بارے میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران 85 سے 90 فیصد لوگوں نے حمایت میں فیصلہ دیا کہ ان کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے۔


تفصیلات کے مطابق ، معاون خصوصی اطلاعات ونشریات نے  کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنا ووٹ اکثریت کے ساتھ ووٹ ڈالا۔ ایک بات پر سب کا اتفاق تھا کہ غیر مشروط طور پر نواز شریف کو ریلیف نہیں دینا چاہیے۔

معاون خصؤصی نے کہا  کہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے بتایا میاں نواز کی پراپرٹیز گارنٹی کے طور پر رکھی جائیں گی، شہبازشریف نے درخواست دی ہے لہذا مسلم لیگ ن کے صدر یقین دہانی کرائیں، ذیلی کمیٹی کی ساڑھے نو بجے کی میٹنگ میں ترجیحات طے ہوجائیں گی، شیورٹی بانڈز دیتے ہیں تو ان کوبیرون ملک بھیجنے کے لیے سہولیات دیں گے،رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کابینہ میں دوطرح کی رائے آئی، ایک بحث ہوئی کہ مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد نواز شریف کو باہر جانے دیا جائے یا نہیں، اس دوران وزیراعظم عمران خان نے ووٹنگ کرائی، اکثریت نے باہر جانے کے حق میں فیصلہ دیا۔

مشیر اطلاعات نے کہا کہ جب ہمارے سامنے رپورٹ آئی تو کابینہ کے کنسرن تھے یہ وہ وزیراعظم ہے جو ساتھیوں سے رائے لیتے ہیں، اس سے پہلے بند کمروں میں ون مین شو ہوا کرتے تھے۔ وزیراعظم نے انسانیت کوسیاست سے علیحدہ رکھ کر دیکھا ہے۔

انہوں نے کہا  کہ وی آئی پی قیدی کی صحت کے حوالے سے ڈاکٹرز، عدالت کے بھی کنسرن ہیں، آج شہباز شریف نے وزارت داخلہ کو درخواست دی تھی۔ نیب نے ملزم کے حوالے سے اپنی رائے کابینہ کودی۔ میڈیکل بورڈ کے چودہ ممبران کی تجاویزکوکابینہ کے ساتھ شیئر کیا گیا۔