عروج ضیاءنامی خاتون صحافی نے فیصل ایدھی پر جنسی ہراسانی کا الزام لگادیا

عروج ضیاءنامی خاتون صحافی نے فیصل ایدھی پر جنسی ہراسانی کا الزام لگادیا

فائل فوٹو

کراچی: جنسی ہراسانی سے متعلق مہم”می ٹو“ نے اب ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کے بعد پاکستان کا رخ کرلیا ہے اور اس کا شکار بابائے انسانیت مرحوم عبدالستار ایدھی کے بیٹے فیصل ایدھی ہوئے ہیں جن پر خاتون صحافی عروض ضیاءنے جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عروج ضیا نے ٹوئٹر پراپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں بتایا کہ وہ 22 سال کی عمر میں فیصل ایدھی سے ملی تھیں جب میں ان سے مل کر واپس جارہی تھی تو انہوں نے مجھے گھر تک چھوڑنے کی پیشکش کی جس پر میں نے ہاں کردی لیکن میری ہاں کرنے کی دو وجوہات تھیں ایک تو فیصل ایدھی مجھ سے عمر میں بہت بڑے تھے دوسرا ان کا رویہ میرے ساتھ بہت اچھا تھا اس کے بعد انہوں نے مجھ سے میرا نمبر مانگا جو میں نے انہیں دے دیا۔ بعد ازاں وہ گاڑی میں بہت دیر تک میرا ہاتھ پکڑے رہے۔

اس کے علاوہ فیصل ایدھی نے مجھے پیغامات بھی بھیجے جس میں انہوں نے مجھے بات کرنے کے لیے بیلنس کی پیشکش بھی کی اور وہ میرے ساتھ دوستانہ تعلقات بنانا چاہتے تھے۔

عروج ضیا نے مزید بتایا کہ فیصل ایدھی نے انہیں ایک رات تقریباً ڈھائی بجے فون کیا اور کہا کہ وہ اس وقت لندن میں موجود ہیں وہ مجھے اس لیے فون کررہے ہیں کیونکہ میں ان کے لیے بہت خاص ہوں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ میں نے خود کو یقین دلانے کی بہت کوشش کی کہ جیسا میں سوچ رہی ہوں ویسا نہیں ہے مجھے غلط فہمی ہوئی ہے کیونکہ وہ فیصل ایدھی ہیں وہ شادی شدہ ہیں، ان کے بچے ہیں اور وہ مجھ سے عمر میں بہت بڑے ہیں اوروہ عبدالستار ایدھی کے بیٹے ہیں، میں بہت خوفزدہ ہوتی رہی، وہ مجھے مسلسل فون کرتے رہے یہاں تک کہ میرا فون سوئچ آف ہوگیا۔

عروج ضیا نے اپنی آواز پہلے نہ اٹھانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ میں اس واقعے کے لیے خود کو ذمہ دار مانتی رہی جب تک کہ مجھے احساس نہیں ہوگیا کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا اس کے علاوہ مجھے یہ بھی خدشہ تھا کہ کون میری بات پر یقین کرے گا۔

دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق فیصل ایدھی نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے یہ سب چھوٹ پر مبنی کہانی ہے میں عروج ضیا نامی کسی خاتون کو نہیں جانتا اور نہ ہی مجھے ایسی کوئی ملاقات یاد ہے۔ شاید مجھ پر الزام لگانے والی لڑکی کی ذہنی حالت صحیح نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے انہوں نے یہ الزامات ایدھی فاؤنڈیشن کی شہرت خراب کرنے کے لیے لگائے ہوں۔