پرستاروں کی ستائش سے مزید لگن اور جذبے سے کام کرنیکی خواہش پیدا ہوئی ‘ ثنا جاوید

پرستاروں کی ستائش سے مزید لگن اور جذبے سے کام کرنیکی خواہش پیدا ہوئی ‘ ثنا جاوید
کیپشن: تصویر:ثنا جاوید انسٹاگرام

لاہور:خوبرو اداکارہ ثنا جاوید نے کہا ہے کہ خود احتسابی کی قائل ہوں او ر شاید یہی میری کامیابی کی اصل وجہ بھی ہے ،کسی بھی پراجیکٹ کیلئے اپنے قریبی لوگوں سے بھرپور مشاورت کے بعد ہامی بھرتی ہوں ۔

تفصیلات کےمطابق اداکارہ کا کہنا تھاکہ اب تک جتنے بھی کردار نبھائے ہیں پرستاروں نے اسے سراہا ہے جس سے مزید لگن اور جذبے سے کام کرنے کی خواہش پیدا ہوئی ہے ۔

ثناء جاوید نے کہا کہ انسان چاہے کسی بھی شعبے میں کام کررہا ہو کبھی پرفیکٹ نہیں ہوتا بلکہ اسے ہر گزرتے دن کے ساتھ سیکھنا پڑتا ہے۔ میں خود احتسابی کی قائل ہوں اور اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو تسلیم کرکے ان سے سیکھتی ہوں ۔ اب تک کے کام سے مطمئن ہوں لیکن بہتر سے بہترین کرنے کی کوشش کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہوں ۔

ثنا جاوید نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز ٹی وی اشتہارات میں بطور ماڈل کیا، انہوں نے 2012ء کی سیریز "میرا پہلا پیار" میں معاون کردار کے طور پر اداکاری کا آغاز کیا اور اسی سال ڈرامہ شہر ذات میں بھی ایک چھوٹا سا کردار ادا کیا۔ 2016ء میں زاہد احمد کے مقابل رومانوی ڈرامہ "ذرا یاد کر" میں ماہ نور کے کردار کے بعد مقبول ہوئیں۔

انہوں نے 2017ء میں ایک سماجی مزاحیہ فلم "مہر النساء وی لو یو" سے فلمی میدان میں قدم رکھا، اس میں ان کے مقابل اداکار دانش تیمور تھے۔

View this post on Instagram

Thank You PISA, thank you Fans and Jury for selecting me for this prestigious award. First of all I would like to thank Allah for everything. Then comes the two most important people in my life, my parents who have supported me at every step. This award for my Ammi Abu and of course my family♥️ Working in Ruswai was the highlight of my career. The team including the writer Naila Ansari and my co actors @mikaalzulfiqar , @mohammedahmedsyed sahab and others Also my amazing producers @saeedhumayun @nadeembaigdirector @irfan.malik50 thank you all for believing in me. Spending time with a real life hero Mukhtaran Mai was something that propelled me to go the extra mile. Thank you again for supporting a role that was new to TV but not new for those women who go through harassment and abuse all over the world. This is for all of you ! May the Force be with you!!!! Love Sana Javed x

A post shared by Sana Javed (@sanajaved.official) on

اسی سال انہیں بلال اشرف کے ساتھ "رنگ ریزہ" میں مرکزی کردار کے لیے پیشکش کی گئی، انھوں نے ہامی بھر لی اور دستخط بھی کر دیا تھا، لیکن پھر بعد میں کچھ وجوہات کی بنا پر اپنے آپ کو اس سے الگ کر لیا اور منع کر دیا۔

اس کے بعد 2017-2018ء کے سب سے مشہور پاکستانی ڈرامہ خانی میں مرکزی کردار کیا، اس ڈرامہ کے بعد مقبولیت و شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئی اور وسیع پیمانے پر ان کے کردار کو پسند کیا گیا۔

 "رسوائی" میں سمیرا کا کردار ادا کرنے پر پاکستانی انٹرنیشنل سکرین ایوارڈ نے انھیں بہترین ٹیلی ویژن اداکارہ کا ایوارڈ دیا ہے۔