شمالی کوریا کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کی قرارداد منظورکر لی گئی

 شمالی کوریا کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کی قرارداد منظورکر لی گئی

جینوا:عالمی سلامتی کونسل نے پیر کے روز متفقہ طور پر شمالی کوریا کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کی قرارداد منظور کر لی ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے چھٹا اور اب تک کا سب سے بڑا نیوکلیئر تجربہ کرنے کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔


تفصیلات کے مطا بق اس قرارداد کے تحت شمالی کوریا کی ٹیکسٹائل برآمدات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اس کی تیل کی درآمد کو روک لگا کر محدود کر دیا گیا ہے۔امریکا کی جانب سے تیار کی گئی قرارداد کو چین اور روس سمیت تمام 15 ارکان کے ووٹوں سے منظور کر لیا گیاہے۔

شمالی کوریا پر نئی پابندیوں کی قرارداد منظور ہونے کے بعد امریکی مندوب نے سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر شمالی کوریا اپنے جوہری پروگرام کو روک دینے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو وہ اپنا مستقبل بحال کر سکتا ہے۔ اگر وہ ثابت کر دے کہ امن سے رہ سکتا ہے تو پھر دنیا بھی اس کے ساتھ امن کے ساتھ رہے گی۔

انکا کہنا تھا کہ امریکا کسی طور بھی شمالی کوریا کے ساتھ جنگ کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔ ہیلی کے مطابق "پیونگ یانگ نے ابھی تک اس مقام سے تجاوز نہیں کیا ہے جہاں سے پلٹنا ممکن نہ ہو تووہ اگر واپس پلٹنا چاہیں تو ابھی بھی وقت ہے ۔

انھوں نے کہا کہ آج کی قرارداد کا منظور ہونا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان استوار ہونے والے مضبوط تعلق کے مرہونِ منت ہے۔