نیب نے شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایک اور ریفرنس کی سفارش کردی

نیب نے شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایک اور ریفرنس کی سفارش کردی
image by facebook

اسلام آباد : قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) میں غیرقانونی تعیناتی سے متعلق ایک اور ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کردی۔نیب کے اعلامیے میں کہا گیا کہ شاہد خاقان عباسی نے وفاقی حکومت کے مقررہ کردہ طریقہ کار اور قوانین کے خلاف وزری کرتے ہوئے شیخ عمران الحق کو پی ایس او کا منیجنگ ڈائریکٹر مقرر کیا۔


نیب نے اپنے اعلامیہ میں دعویٰ کیا کہ تحقیقات سے ’انکشاف‘ ہوا کہ عمران الحق کی پی ایس او میں بطور منیجنگ ڈائریکٹر تعیناتی محض سابق وزیر پیٹرولیم سے ’ذاتی تعلقات‘ کی بنیاد پر ہوئی۔نیب کراچی نے بتایا کہ عمران الحق کو منیجنگ ڈائریکٹر تعینات کرتے وقت ان کی تعلیمی اور پیشہ وارانہ قابلیت کی جانچ نہیں کی گئی۔

اس ضمن میں نیب نے تحقیقات کا حوالہ دیا اور کہا کہ شیخ عمران الحق نے 2013 سے 2015 کے درمیانی عرصے میں ایل این جی ٹرمینل کی تعمیرات کے دوران اس وقت کے وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ ذاتی نوعیت کے تعلقات قائم کیے۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم ایل این جی اسکینڈل میں نیب کی حراست میں ہیں ، ان پر الزام ہے کہ جب شاہد خاقان عباسی وزیر پیٹرولیم تھے تب انہوں نے ایل این جی ٹرمینل کا 15 سالہ ٹھیکہ تفویض کرتے وقت قوانین کو مد نظر نہیں رکھا ، نیب نے مذکورہ مقدمہ 2016 میں بند کردیا تھا تاہم 2018 میں دوبارہ کھول دیا گیا۔