شاہد خاقان عباسی کا اسپیکر قومی اسمبلی کے نام کھلا خط

شاہد خاقان عباسی کا اسپیکر قومی اسمبلی کے نام کھلا خط
ایم این اے کا آئینی حق ہے کہ وہ اپنے حلقے کے عوام کی خواہشات کو پیش کرے، رہنما ن لیگ۔۔۔۔۔۔۔فوٹو/ ریڈیو پاکستان

اسلام آباد: شاہد خاقان عباسی نے اسد قیصر کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ قومی اسمبلی کی بالادستی اور تقدس کی خاطر ذمہ داری کے احساس سے کھلا خط لکھا ہے۔ ہر جگہ اور ہمیشہ کہتا ہوں کہ زیر حراست تمام ایم این ایز کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کی ضرورت ہے لیکن افسوس میری کوششوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔


رہنما ن لیگ نے لکھا کہ ایم این اے کا آئینی حق ہے کہ وہ اپنے حلقے کے عوام کی خواہشات کو پیش کرے اور اسپیکر کی دستوری ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ایم این ایز کی اسمبلی میں حاضری یقینی بنائے۔

سابق وزیراعظم نے کہا انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اسپیکر آفس یہ ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہا ہے۔ میرے پروڈکشن آرڈر اکثر اجلاس کے بعد مجھے موصول ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت عمل سے مضبوط ہوتی ہے محض الفاظ کے اظہار سے نہیں اور بطور ایوان کے محافظ و نگہبان اسپیکر قومی اسمبلی کے اقدامات کو بذات خود بولنا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط اس ضمن میں اسپیکر کو مکمل رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ منتخب نمائندوں کے استحاق اور حقوق پر پارلیمانی روایت کو رہنما اصول کے طور پر استعمال ہونا چاہیے۔ بلا امتیاز تمام ایم این ایز کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام ایم این ایز کے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے تک اجلاس میں شرکت نہیں کر سکتا۔ پروڈکشن آرڈرز کے بعد میں دانستہ اور رضاکارانہ طور پر ایوان میں آنے سے قاصر ہوں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں اس حقیقت سے بھی بخوبی آگاہ ہوں کہ آپ کا دفتر حکومت کے دباؤ میں ہے۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ایل این جی کیس میں زیر حراست ہیں جہاں نیب حکام ان سے تفتیش کر رہے ہیں۔