موٹروے زیادتی کیس، پولیس کو دونوں درندوں کا سراغ مل گیا

 موٹروے زیادتی کیس، پولیس کو دونوں درندوں کا سراغ مل گیا
ایک ملزم کی شناخت عابد علی ولد اکبر علی کے نام سے ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فوٹو/ اسکریب گریب

لاہور: موٹروے پر خاتون سے زیادتی کیس میں ایک ملزم کا ڈی این اے میچ کر گیا ہے جب کہ دوسرے ملزم کی بھی شناخت ہو گئی ہے۔پنجاب پولیس نے موٹروے زیادتی کیس میں ملوث دونوں ملزمان کا سراغ لگا لیا ہے۔ عابد علی ولد اکبر علی کے ڈی این اے میچ کئے جانے کی تصدیق کے بعد اب دوسرے ملزم کو بھی شناخت کر لیا گیا ہے۔ دوسرے ملزم کی وقار الحسن شاہ کے نام سے شناخت ہوئی ہے۔ ملزم شیخوپورہ کے علاقے قلعہ ستار شاہ کا رہائشی ہے، ملزم کا شناختی کارڈ نمبر 7-1699963-35401 ہے۔ عابد اور وقار نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں دوران ڈکیتی اور زیادتی کی وارداتیں  کی ہیں۔


اس سے قبل ایک شخص کا پروفائل ڈی این اے میچ ہونے کی تصدیق کی گئی تھی، ملزم کی شناخت عابد علی ولد اکبر علی کے نام سے ہوئی اور جس کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ عادی مجرم ہے اور بہاولنگر کے شہر فورٹ عباس کا رہائشی ہے۔

زیادتی کا شکار خاتون کے نمونے جرائم پیشہ افراد کے ڈیٹا بیس میں پہلے سے موجود ملزم کے ریکارڈ سے میچ ہوئے۔ کرمنل ڈیٹا بیس میں عابد علی کا ریکارڈ 2013 سے موجود تھا۔عابد اشتہاری مجرم ہے اور اس کی وارداتوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ ملزم کی عمر 27 سال اور تاریخ پیدائش 22 مئی 1993 ہے۔ عابد علی کی گرفتاری کے لئے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) چھاپے مار رہی ہے، تاہم وہ تاحال قانون کی گرفت سے آزاد ہے

عابد علی نے 2013 میں بھی فورٹ عباس میں چار ساتھیوں کے ساتھ ایک گھر میں گھس کر ڈکیتی کی اور اسلحہ کے زور پر ماں بیٹی سے اجتماعی زیادتی کی تھی جس کا مقدمہ فورٹ عباس میں درج کیا گیا تھا