مزدور اور حکمران اشرافیہ۔۔۔

مزدور اور حکمران اشرافیہ۔۔۔

گزشتہ ہفتے کچھ دوستوں کے ساتھ لاہور کے نواحی علاقے میں ایک شادی پر جانا ہوا۔ صبح جاتے ہوئے اور واپسی پر سڑک کے دونوں اطراف بھٹوں کی چمنیاں نظر آ رہی تھیں اور 4 سال سے لے کر 70 سال کے مرد و زن بزرگ بچے اور بچیاں مٹی میں اٹے اینٹیں بنانے اور ڈھونے میں مصروف تھے۔ انہیں دیکھ کر فوراً بانڈڈ لیبر اور بھٹہ مزدور محاذ کے احسان اللہ خان یاد آ گئے جنہوں نے اپنی زندگی بھٹہ مزدوروں کی بہتری کے لیے وقف کی ہوئی تھی۔

ایک دوست اخبار سے خبر پڑھ کر سنا رہا تھا کہ نیب قوانین میں ترمیم کے بعد اس کو عملی طور پر ختم کر دیا گیا ہے اور شریف برادران سمیت تمام کیسز واپس بھیج دیے گئے ہیں۔ مجھے یاد آیا کہ احسان اللہ خان بھٹوں پر جبری مشقت کے خلاف قانون سازی کے لیے جدوجہد کرتے رہے لیکن کامیاب نہ ہوئے جبکہ ملک کا اربوں لوٹنے والوں نے اپنے بچاؤ کے لیے قانون کی ناک ہی مروڑ دی۔

احسان اللہ خان کا ذکر آتے ہی ہم فلیش بیک میں چلے گئے، ایک دوست دیال سنگھ مینشن لاہور میں احسان اللہ خان کے اس دفتر کا ذکر چھیڑ بیٹھے جہاں اکثر صحافی آ کر وقت گزارا کرتے تھے کیونکہ اس مینشن میں موجود لاہور پریس کلب پر ضیاالحق کے ایک گماشتے کا اس وقت کی حکومت کی آشیرباد سے قبضہ تھا۔ یہ قبضہ کس طرح چھڑایا گیا اس کا ذکر آگے چل کر کروں گا۔ احسان اللہ خان بھٹہ مزدور دوست کے علاوہ صحافی دوست تھے۔ لاہور پریس کلب کی اس وقت کی عمارت صحافیوں کے لیے کافی تھی لیکن صحافی دربدر تھے وجہ ناجائز قبضہ۔ ہم نوجوان صحافی لاہور پریس کلب پر بزور قوت قبضہ چھڑانا چاہتے تھے لیکن احسان اللہ خان نے کہا کہ پہلے اپنی بنیاد مضبوط بناؤ۔ ہم نے پوچھا وہ کیسے کہنے لگے الیکشن کراؤ اور پولنگ کے لیے میرا دفتر حاضر ہے۔ ہم نے دوڑ دھوپ کر کے اپنے سینئر سے بات کی اور سب انتخابات پر متفق ہو گئے۔ احسان اللہ خان نے صحیح رستہ دکھایا، انتخابات ہو گئے اور ہمارا گروپ کلین سویپ کر گیا۔ ناصر نقوی اور فیاض چودھری صدر اور سیکرٹری جبکہ میں ہما علی، میاں خلیل اور حامد جاوید بطور ممبر گورننگ باڈی منتخب ہوئے۔ اس کے بعد میں اور ہما علی نے پریس کلب کی عمارت کا تالا توڑا اور کلب کو آباد کیا۔ خیر بات ہو رہی تھی بھٹہ مزدوروں کی، احسان اللہ خان کے چہرے پر خوشی تب دیکھتے جب وہ لاہور ہائی کورٹ سے بھٹہ مزدوروں کو مالکان کے چنگل سے آزاد کراتے یا جب لاہور پریس کلب کے انتخابات منعقد ہو گئے تو ان کا چہرہ تمتما رہا تھا۔

اپنی منزل کی طرف چلتے چلتے ہم ایک ایسی جگہ رک گئے جہاں سڑک کے دونوں اطراف اینٹوں کے بھٹے تھے اور مزدور ایک جگہ اکٹھے تھے۔ غالباً ان کے کھانے کا وقت تھا اور ہم دیکھ کر حیران ہو گئے کہ کچھ بھٹہ مزدور آج بھی لال مرچوں کا سالن، پیاز، سبز مرچیں، مولی کے پتے، کچھ ابلے ہوئے آلو یا دوسری سبزیاں کھا رہے تھے۔ غریب 

تھے لیکن دل بڑا تھا ہمارے لیے مکس سبزی لے آئے جسے ہم نے باقائدہ کھایا۔ جب ان کے حالات پوچھے تو ایک بزرگ نے کہا کہ ہم آج بھی بھٹہ مالکان کے ”گروی“ ہیں۔ میں نے کہا کہ سپریم کورٹ تو آپ کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے کہنے لگا اس پر عملدرآمد کون کرائے گا حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں۔ ہم نے کہا کہ عدالت سے رجوع کیا تو جواب آیا کہ یہ عمل بھی پیسے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی دوسرا احسان اللہ خان پیدا ہوا اور ہم میں اتنی سکت نہیں۔ ایک دوست نے بتایا احسان اللہ خان 27 سال سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہے اور پاکستان کے دروازے اس پر بند ہیں۔ جب طیارہ ہائی جیکنگ کے ملزمان کو معافی مل سکتی ہے اور وہ پاکستان آ سکتے ہیں تو احسان اللہ خان کو بھی انسانی ہمدردی کی بنا پر ریلیف ملنا چاہیے۔ پھر کچھ بھٹہ مزدور خواتین نے بھی اپنی کہانیاں سنائیں تو مجھے شوکت صدیقی کی شہرہ آفاق کتاب ”جانگلوس“ یاد آ گئی جس میں بھٹہ مزدوروں کے ساتھ ہونے والے اذیت ناک سلوک سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔ اتفاق کی بات تھی کہ 90 فیصد بھٹہ مزدور ننگے پاؤں تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگوں کے ووٹ بنے ہیں تو وہ بولے کہ ہمارے شناختی کارڈ ہی نہیں تو ووٹ اندراج کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ شناخت کارڈ تو کسی بھی شہری کا بنیادی حق ہوتا ہے، وزیر داخلہ رانا ثنااللہ اور وفاقی حکومت کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔ ایک بچہ بولا ”ساڈھی واج تے امران خان وی نہیں چکدا“۔ ایک سابقہ سٹڈی کے مطابق ملک بھر میں 50 لاکھ بھٹہ مزدور تھے جو کہ یقیناً اب کئی گنا ہو چکے ہوں گے۔ عالمی اداروں کے مطابق یہ تعداد دو کروڑ تک پہنچ چکی ہے بہتر ہے حکومت سروے کر کے صحیح تعداد سامنے لائے۔ اتنی بڑی تعداد کا شناختی کارڈ اور ووٹ سے محروم رہنا لمحہ فکریہ ہے۔ خیر دل گرفتہ ہو کر وہاں سے چل دیے۔ ہم سب نے کچھ رقم ان کو دینی چاہی تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ہمارے ہاں مہمانوں سے پیسے نہیں لیے جاتے۔ ذہن پھر ماضی کی طرف لوٹ گیا کہ احسان اللہ خان کے مطالبات بے ضرر اور مزدور دوست تھے۔ وہ کہتا تھا کہ بھٹوں پر جبری مشقت لینے اور پیشگی کی واپسی کا غیر آئینی سلسلہ بند کیا جائے۔ بھٹہ مالکان بچوں کی تعلیم کے پابند ہوں۔ جبری مشقت آئینی طور پر جرم ہے اس لیے بھٹہ مالکان تمام بلڈرز کو تحریری حلفیہ سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کا پابند کیا جائے جس میں اس امر کی یقین دہانی کرائی جائے کہ تعمیراتی کام میں بانڈڈ لیبر یا چائلڈ لیبر استعمال نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کسی عورت کا استحصال ہوا ہے۔ بھٹہ مالکان نے مزدوروں پر کروڑوں روپے کی ”پیشگی“ غلامی قرضہ قائم کر رکھا ہے۔ اس کا مطالبہ تھا کہ بھٹوں پر ٹھیکیداری، جمعداری غیر قانونی ظالمانہ غلامانہ سسٹم کو ختم کر کے فیکٹری ایکٹ پر عمل کرایا جائے۔ جبری مشقت کھاتہ سسٹم کے بجائے ہر مزدور مرد و زن کو 8 گھنٹے کے عوض معقول ماہوار تنخواہ دی جائے۔ ایک دوست نے لقمہ دیا کہ جبری مشقت کا شکار بچے اقبال مسیح کو پاکستان کے صدر مملکت جناب عارف علوی صاحب نے 23 مارچ 2022 کو پاکستان کے قومی دن پر پاکستان کے اعلیٰ ترین سول ایواڈ ”ستارہ جرأت“ سے نوازا ہے۔ جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس پر پرانے داغ دھونے پر موجودہ حکومت کی تعریف تو بنتی ہے۔ اس سے قبل صدر مملکت نے کہ 12 جون کو بچوں کے عالمی دن کے موقع کہا تھا کہ بچہ اقبال مسیح ہمارا ہیرو ہے اور ہماری سرزمین کا ایک عظیم سپوت ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت کے فرعون اقبال مسیح کے جبری مشقت کا شکار ہونے سے ہی منکر ہو گئے تھے۔ اقبال مسیح کو غالباً ایسٹر کے موقع پر مار دیا گیا تھا۔ میرے ویو پوائنٹ اور پنجابی روزنامہ سجن کے ایڈیٹر ظفر یاب اور احسان اللہ خان پر بغاوت کا مقدمہ بھی درج ہوا تھا۔

دوسری طرف نیب کی 34 شقیں ختم کر دی گئیں، صدر عارف علوی کے دستخط نہ کرنے کے باوجود اس قانون کا نفاذ ہو چکا ہے۔ شریف خاندان اور زرداری خاندان سمیت تمام نیب زدگان کے کرپشن کے کیسز ختم نیب کے پر کٹ گئے۔ نیب قوانین میں جو ترامیم کی گئی ہیں وہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔ تمام ترامیم 1-1-85 سے لاگو ہوں گی۔ اہلِ خانہ کے اثاثے ملزم کے اثاثے تصور نہیں ہوں گے۔ اثاثوں کو ناجائز ثابت کرنے کی ذمہ داری نیب پر، ملزم جوابدہ نہیں۔ ملزم کی جائیداد کی قیمت مارکیٹ کے بجائے DC ریٹ پر ہو گی۔ دورانِ کیس ملزم متنازع جائیداد بیچ سکتا ہے۔ کیس ثابت نہ ہو تو نیب افسر کو 5 سال سزا ہو گی۔ 50 کروڑ روپے سے کم کرپشن کا کیس نیب میں نہیں چلے گا۔ 100 سے کم افراد کے ساتھ فراڈ کا کیس بھی نیب میں نہیں چلے گا۔

یہ سب قانون سازی ملک کو لوٹنے والی اشرافیہ کے لیے ہو رہی ہے لیکن عوام کی بہتری کے لیے لائی جانے والی حکومت کے پاس عوام کے لیے کچھ نہیں۔ بھٹہ مزدوروں کا ذکر تو برسبیل تذکرہ آ گیا اور دیکھا جائے تو ہم سب ”بانڈڈ لیبر“ ہیں۔

میں پرانی یادوں کو تازہ کرنے دیال سنگھ مینشن گیا پرانے پریس کلب کے سامنے ریلنگ پر کھڑے ہو کر وقت کے پہیے کو پیچھے چلایا تو بہت سے چہرے نظروں سے گزرے جس میں چاچا رفیق میر، بابا ظہیر کاشمیری، حامد جاوید، اظہر جعفری، رمان احسان، الیاس مغل اور کئی دوسرے بھی تھے۔ بھٹہ مزدور محاذ کے دفتر بھی گیا جو دہائیوں سے بند پڑا ہے اسی دفتر سے ہم نے پریس کلب بحالی کا الیکشن لڑا اور لاہور میں آزادی اظہار رائے کا ایک اور مرکز پریس کلب بحال ہوا۔

صدر مملکت نے اقبال مسیح کے ساتھ جو ہمدردی دکھائی ہے وہ قابل تعریف ہے لیکن ان سے اپیل ہے کہ دیار غیر میں از خود جلاوطن پاکستانیوں کو بھی عام معافی کا موقع ملنا چاہیے۔

کالم کے بارے میں اپنی رائے 03004741474 پر وٹس ایپ کریں۔

مصنف کے بارے میں